السلام علیکم ! سر مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ پیسے دے کر جاب حاصل کرنا کیسا ہے ،اس جاب کی تنخواہ حلال ہے یا حرام ؟جبکہ میں اس جاب کے اہل بھی ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ حق مارا ہے میں نے یا نہیں مگر دل میں احساس اٹھا ہے۔ سر براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
سائل اگر واقعۃً اس ملازمت کا اہل اور مستحق ہو ،اور متعلقہ ذمہ داری نبھانا بھی بخوبی جانتا ہو، اس صورت میں اس ذمہ داری کو نبھانے کے بعد ملنے والی تنخواہ اگرچہ حلال ہوگی ، مگر ملازمت کے حصول کے لئے رشوت لینا اور دینا ہر دو امور شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جس پر سائل کو توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة. الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه. الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط الخ (کتاب القضاء، ج: 5، ص: 362، ط: سعید)۔
و فی الھندیۃ: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي الخ (کتاب الاجارۃ، ج: 4، ص: 413، ط: ماجدیۃ)۔