السلام علیکم مفتی صاحب!
میرا نام۔۔۔ ہے اور میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں، میری بیوی نے ایک جگہ سے یہ فتویٰ لیا کہ عدالتی یکطرفہ خلع حرام ہوتی ہے یا نہیں، وہاں اسے بتایا گیا کہ یہ حرام ہے، لیکن اس کے باوجود اس نے عدالت سے خلع لے لی، اب خلع کو تین مہینے ہو چکے ہیں، میں اور وہ اب ساتھ رہنا چاہتے ہیں، لیکن میرے گھر والے کہتے ہیں کہ عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنا جائز نہیں ہے، جبکہ میں نے کبھی طلاق نہیں دی، اس نے عدالت سے یکطرفہ خلع لیا ہے، اب آپ مجھے بتا دیں کہ ہمارا مزید ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کی بیوی نے کن وجوہات کوبنیادبناکرعدالت سے ڈگری حاصل کی تھی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم مذکورخلع کی ڈگری اگرایسی ٹھوس شرعی وجوہات کے بغیرحاصل کی گئی ہوکہ جنہیں تنسیخ نکاح پرمحمول کیاجاسکےتو خلع بھی چونکہ دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے ، چنانچہ سائل کی بیوی نے اگر واقعۃً اسبابِ فسخ نکاح کی عدم موجودگی میں سائل کی اجازت و رضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی ہے ،تو اس ڈگری کے جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائل کی بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا , بلکہ بدستور برقرار ہے، جبکہ سائل کے اہل خانہ کا یہ کہنا کہ ”عدالتی خلع کے بعد ساتھ رہنا جائز نہیں ہے “ شرعاً درست نہیں، بلکہ دونوں بغیر تجدیدِ نکاح کے حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔تاہم سائل اوراس کی بیوی کے لیے بہتریہ ہے کہ وہ مذکورخلع کی ڈگری کے ساتھ کسی قریبی دارلافتاء حاضرہوکرمفتیان کرام سےبالمشافھۃرہنمائی حاصل کریں ،اوران کے بیان کردہ حکم ِشرعی کے مطابق عمل کرلیں۔
کما فی ردالمحتار : (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا أو معلقا على الملك . و أما ركنه فهو كما في البدائع إذا كان بعوض , الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ، و لا يستحق العوض بدون القبول ،(3/441)۔
و فی المبسوط : (قال) و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود ، و هو بمنزلة الطلاق بعوض ، و للزوج ولاية إيقاع الطلاق ، و لها ولاية التزام العوض ، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد . (6/173)۔