السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ
علی اور احمد دوست ہیں _ علی احمد کے لیے ایک جگہ خرید رہا ہے، احمد کہ کہنے پہ _اب مارکیٹ کے حساب سے مذکورہ جگہ کی قیمت 2 لاکھ 50 ہزار روپے ہے، یہ بات علی احمد کو بتاتا ہے _اب علی احمد کو یہ بھی بتا دیتا ہے کہ اگریہ زمین ہمیں 2لاکھ یا 2لاکھ 20 ہزار فی مرلہ میں مل جاتی ہے تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہو گا، جس پہ احمد حامی بھر لیتا ہے اور انتقال لینے کی ذمہ داری علی کو سونپ دیتا ہے، اب اگر علی مالک زمین سے جو رقم احمد سے طے ہوئی ہے(2لاکھ فی مرلہ) اس رقم سے کم میں سودا کرتا ہے مثلاً (1لاکھ 80)تو اس کے لیے 20 ہزار روپے فی مرلہ لینا آیا کہ جائز ہے کہ نہیں _
صورت مسؤلہ میں اگر احمد نے علی کو اپنے لئے مذکور زمین خرید نے کا وکیل بنایا ہو ، اورعلی نے احمد کو اس زمین کی مارکیٹ ویلو بتلائی ہو جس پر اس نے رضامندی کا اظہاربھی کرلیا ہو تو علی کا مالک زمین کے ساتھ جس قیمت پر بھی سودا فائنل ہو جائے ، وہ احمد سے اسی قدر رقم لینے کا پابند ہوگا ، مالک زمین سے کم قیمت پر جگہ خرید کر احمد سے زیادہ قیمت وصول کر نا جائز نہیں ، البتہ اگر معاملہ فائنل ہو نے کے بعد احمد اپنی مرضی و خوشی اسےکچھ رقم دیدےتو علی کےلئے وہ رقم اپنے استعمال میں لانے کی اجازت ہو گی۔
وکما فی شرح المجلۃ اذا اشترطت الاجرۃ فی الوکالۃ واو فا ھا الوکیل یستحقہا وان لم تشترط ولم یکن الوکیل ممن یخدم با لاجرۃ یکون متبرعا ولیس لہ مطا لبتہ باجرۃ ( ج :4 ص ؛ 445 ناشر مکتبہ اسلامیۃ )
وفیہ ایضا لایشترط اضافۃ العقد الی المؤکل با البیع والشراءوالاجارۃ والصلح عن اقرار فان لم یضف الوکیل الی مؤکلہ واکتفی باضافتہ الی نفسہ صح ایضا وعلی کلتاالصورتین لا تثبت الملکیۃ الا لموکلہ (ج:4 ص: 427 )