گناہ و ناجائز

پرورش میں مشکلات کی وجہ سے پانچ ماہ کے حمل کو ضائع کروانے کا حکم

فتوی نمبر :
88627
| تاریخ :
2025-11-07
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پرورش میں مشکلات کی وجہ سے پانچ ماہ کے حمل کو ضائع کروانے کا حکم

السلام علیکم! اگر میاں بیوی دونوں ذہنی طور پر کمزور ہوں، اور عورت کو حمل کی وجہ سے ذہنی مرض بڑھ جائے جس سے وہ اپنی حالت میں بھی نہ رہے، اور اسے یہ کنفرم ہو کہ یہ پیدائش کے بعد نہ اس کا شوہر اور نہ ہی بیوی دونوں اس بچے کو سنبھال سکیں گے، کیونکہ بچے کی پیدائش کے بعد تمام ذمہ داری ان کے نانا اور نانی پر آ جائے گی اور وہ بھی بڑھاپے کی طرف ہیں اور بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض ہیں جو کہ وہ بھی نہیں سنبھال سکتے ، کیا اس صورت میں ۵ مہینے کے بچے کا اسقاط حمل کروانا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اسقاط حمل صرف چار ماہ سے قبل جائز ہے، وہ بھی شدید مجبوری کی صورت میں، اس کے بعد جبکہ بچے میں روح پڑ جائے تو کسی بھی صورت میں اسقاط حمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ ایک معصوم جان کے قتل کے مترادف ہے، لہٰذا مسئولہ صورت میں مذکور والدین کو اس ارادہ سے مکمل احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في فتح القدير: وهل يباح الإسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شيء منه ثم في غير موضع، قالوا: ولا يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط اھ(3/ 401)
وفي النهر الفائق: بقي هل يباح ‌الإسقاط ‌بعد ‌الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولم يكن ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوماً وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في (الفتح)، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج وفي كراهة (الخانية) ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم لهذا إذا أسقطت بغير عذر انتهى اھ (2/ 276)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88627کی تصدیق کریں
1     309
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات