گناہ و ناجائز

وراثت کی تقسیم میں کمی و زیادتی کرنے کی سزا کا حکم

فتوی نمبر :
88465
| تاریخ :
2025-10-31
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

وراثت کی تقسیم میں کمی و زیادتی کرنے کی سزا کا حکم

وراثتوں میں ہیرا پھیری کرنے والوں کےلئے شریعت میں کیا سزا موجود ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ میت کے انتقال کے بعد اس کےکفن دفن کے اخراجات، اس کے ذمے قرض کی ادائیگی اوراگر وصیت کی ہو تو بقیہ مال کےایک تہائی حصےمیں وصیت کے نفاذ کے بعد بچنے والا مال اس کے شرعی ورثاء کا حق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں میراث کے احکام اور ورثاء کے حصوں کی تفصیل نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کی ہے، چنانچہ میراث کوانہی حصوں کے مطابق تقسیم کرنا فرض ہے۔ اگر کوئی وارث تمام میراث پر قبضہ کرکےکسی وارث کو اس کے شرعی حصہ سے محروم کردے یا ان کو مقررہ حصہ سے کم دے کر اپنے حق سے زیادہ لےیا میراث کو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں سے ہٹ کر غیر شرعی طور پر تقسیم کرے تو اس کا یہ عمل ناجائز اور سخت گناہ ہے۔ جس پر قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں نازل ہوئی ہیں۔چنانچہ احکامِ میراث بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی ٰنے میراث کو اس کے اصولوں کے مطابق تقسیم کرنے والوں کو خوشخبری اور اس کے خلاف تقسیم کرنے والوں کو وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
(تلک حدود اللہ و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنات تجری من تحتھا الأنھار خالدین فیھا و ذالک الفوز العظیم(13) و من یعص اللہ و رسولہ و یتعد حدودہ یدخلہ نارا خالدا فیھا و لہ عذاب مھین(14)سورۃ النساء)۔
ترجمہ:”یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں،اور جو شخص اللہ ٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا، جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان باغات میں رہیں گےاور یہ زبردست کامیابی ہےاور جوشخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا،اللہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا“۔
دوسری جگہ میراث کے مال کو ناحق کھانے والوں کی مذمت کے طور پر ارشاد فرمایا: (و تأکلون التراث أکلا لما) (الفجر:19)۔
ترجمہ:”اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو“۔
دوسروں کے مال کو ناحق کھانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا :(یأیھا الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل الآیۃ۔ النساء 29)۔
ترجمہ:”اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ“
احادیثِ مبارکہ میں بھی دوسروں کے مال کو ناحق کھانے والوں کے متعلق کئی وعیدیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
1۔ فی سنن ابن ماجۃ: حدثنا سوید بن سعید: قال حدثنا عبد الرحیم بن زید العمؔیؔ عن أبیہ، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: ( من فرؔ من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ )۔ الحدیث۔ (باب الحیف فی الوصیۃ، رقم 2703، ص 549، ط: البشریٰ)۔
ترجمہ:۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”جس شخص نے اپنے وارث کو میراث سے محروم کیا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو اس کی جنت کے حصے سے محروم کردیں گے“۔
2۔ و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضین)۔ الحدیث۔ (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، ج 1، ص 254، ط: قدیمی)۔
ترجمہ:۔حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ”جس شخص نے کسی کی ظلماً ایک بالشت جگہ بھی لی اس کو قیامت کے دن سات زمینوں سے اس کا طوق پہنایا جائے گا“۔
مذکورہ بالا قرآنی آیات اور احادیثِ طیبہ میں وارد وعیدوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ ہر وارث کو اس کے حصۂ شرعی کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت اور کوتاہی برتنے سے گریز کر ے اور اگر کسی نے لا علمی یا جہالت کے سبب کسی کا حق روک رکھا ہے تو وہ جلد از جلد اس کو ادا کردے، بصورتِ دیگر آخرت میں مؤاخذۂ خداوندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید:(تلک حدود اللہ و من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنات تجری من تحتھا الأنھار خالدین فیھا و ذالک الفوز العظیم و من یعص اللہ و رسولہ و یتعد حدودہ یدخلہ نارا خالدا فیھا و لہ عذاب مھین) الآیۃ۔ (سورۃ النساء، آیت نمبر:13۔14)۔
و فیہ أیضاً: :(و تأکلون التراث أکلا لمؔا) الآیۃ۔ (سورۃ الفجر، آیت نمبر:19)۔
و فی سنن ابن ماجۃ: حدثنا سوید بن سعید: قال حدثنا عبد الرحیم بن زید العمؔیؔ عن أبیہ، عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: ( من فرؔ من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ )۔ الحدیث۔ (باب الحیف فی الوصیۃ، رقم 2703، ص 549، ط: البشریٰ)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (من أخذ شبراً من الأرض ظلما؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضین)۔ الحدیث۔ (کتاب البیوع، باب الغصب و العاریۃ، ج 1، ص 254، ط: قدیمی)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88465کی تصدیق کریں
0     306
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات