گناہ و ناجائز

تنخواہ ضبط کرنے اور تاخیر پر کٹوتی کا حکم

فتوی نمبر :
88453
| تاریخ :
2025-10-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تنخواہ ضبط کرنے اور تاخیر پر کٹوتی کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک ادارے میں کام کرتا ہے اور ادارے کے قواعد و ضوابط میں چند باتیں شامل ہیں، یہ کہ ہر اجیر کی تنخواہ میں سے ہر ماہ دس فیصد حصہ ایک سال تک سیکیورٹی ڈپوزٹ کے تحت کاٹا جائے گا جو کہ اجیر کے ادارہ چھوڑنے کے بعد چند شرائط کی بنا پر واپس کردیا جائے گا (1) اجیر ادارہ چھوڑنے سے ایک ماہ قبل تحریری استعفی دے گا، اور وہ پورا ماہ ادارے میں کام کرے گا، تاکہ اس دورانیہ میں ادارہ اس اجیر کا نعم البدل تلاش کرلے ،اگر اجیر ایک ماہ کا وقت نہیں دیتا یا تحریری استعفی دیے بغیر ادارہ چھوڑ دیتا ہے، تو اس کا سیکیورٹی ڈپوزٹ جوکہ اس کی ہر ماہ کی تنخواہ میں سے دس فیصد ایک سال تک کاٹا گیا تھا ،اسے نہیں دیا جائے گا، زید نے تحریری استعفی تو دیا، لیکن ایک ماہ کا وقت دینے کے بجائے ایک ہفتے کا وقت دیا ،زید کو کہا گیا کہ آپ ایک ماہ پورا دیں ،اگر آپ ایک ماہ کا وقت جو کہ ایگریمنٹ میں شامل تھا، نہیں دیں گے تو آپ کو سیکیورٹی ڈپوزٹ نہیں دیا جائے گا، زید نے کہا کہ مجھے سیکیورٹی ڈپوزٹ کی کوئی ضرورت نہیں چاہے آپ نہ دیں، لیکن میں آپ کو ایک ماہ کا وقت نہیں دے سکتا، بلکہ میں ایک ہفتے میں ادارہ چھوڑ دوں گا، اور اس نے ایک ہفتے کے بعد ادارہ چھوڑ دیا، زید کے وقت پورا نہ دیے جانے کی وجہ سے طلباء کا بہت زیادہ نقصان ہوا ،اور اس کا نعم البدل تلاش کرنے میں وقت لگ گیا، جس کی وجہ سے انتظامی معاملات میں خرابیاں پیدا ہوئیں ،اور طلباء کی پڑھائی کا بہت زیادہ نقصان ہوا ،اس نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اب کچھ عرصہ کے بعد دو تین ماہ کے بعد زید مطالبہ کررہا ہے کہ اس کا سیکیورٹی ڈپوزٹ جو کہ مال کی صورت میں ہے، اسے دیا جائے، دوسری طرف ادارے کے ذمہ داران زید کو کہہ رہے ہیں کہ آپ نے ایک ماہ پورا نہیں دیا ،اور اس وقت بھی آپ سے کہا گیا تھا کہ اگر ایک ماہ پورا نہیں دیں گے تو آپ کا سیکیورٹی ڈپوزٹ جو کہ مال کی صورت میں ہے ،آپ کو واپس نہیں دیا جائے گا ،آپ نے بھی کہا تھا کہ مجھے سیکیورٹی ڈپوزٹ کی کوئی ضرورت نہیں ،تو اب آپ کس حق سے یہ مطالبہ کررہے ہیں؟ آیا زید کا سیکیورٹی ڈپوزٹ کی واپسی کا مطالبہ درست ہے یا غلط ؟اور اب زید کو سیکیورٹی ڈپوزٹ دیا جائے گا یا نہیں؟
دوسرا یہ کہ ادارہ میں طلباء پر مار پیٹ یا تشدد کی کسی بھی اجیر کو اجازت نہیں ،اگر کوئی مارپیٹ یا تشدد کرتا ہے تو اس کا سیکیورٹی ڈپوزٹ قابل واپسی نہ ہوگا، اور اگر کوئی اجیر مار پیٹ یا تشدد کرتا ہے اور اسے اس بنا پر ادارے سے نکال دیا جائے تو اب اس اجیرکو سیکیورٹی ڈپوزٹ دیا جائے گا یا نہیں ؟
تیسرا یہ کہ کوئی بھی اجیر اگر وقت کی پابندی نہیں کرتا ،اور وہ ادارے میں تاخیر سے آتا ہے، چاہے دس پندرہ منٹ ،بلکہ ایک منٹ بھی تاخیر سے آتا اور تین دن ایسا کرتا ہے، تو اس کی ایک مکمل دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے، اگر چھ دن تاخیر ہوئی، چاہے وہ ایک ایک منٹ کی تاخیر ہو تو دو دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ،یعنی ہر تین دن تاخیر پر ایک مکمل دن کی تنخواہ کی کٹوتی ہوتی ہے،آیا یہ درست ہے یا غلط ؟
قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں اور عنداللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی بھی ادارے کاملازمین کے ساتھ جو عقد ہوتا ہے، اسے شریعت کی اصطلاح میں ”اجارہ“ کہا جاتا ہے، جوکہ ایک عقدِ لازم ہے، اجارہ کی مدت مکمل ہونے سے پہلے کسی بھی فریق کے لیےبغیر اطلاع ادارہ چھوڑناجائزنہیں ، ملازم پر لازم ہے کہ وہ معاہدے میں طے شدہ شرائط کے مطابق پیشگی اطلاع دے اور مقرررہ عرصہ کام کرے ، تاکہ ادارہ نعم البدل تلاش کرسکے،لہذاصورت مسئولہ میں اگرچہ ملازم خلافِ ضابطہ اطلاع دیے بغیر کام چھوڑ کر چلے جانے کی وجہ سے وعدہ خلافی کے گناہ کا مرتکب ہوا ہے، جس پر اسے ادارے کےمنتظمین سے معذرت کے ساتھ بصدق ِدل توبہ واستغفار لازم ہے،تاہم اس کی مذکور وعدہ خلافی پر ادارے کی جانب سے اس کے عمل کے دنوں کی روکی گئی اجرت ضبط کرنا ”تعزیر بالمال“ (مالی جرمانہ) ہے، جوکہ جمہور فقہاء کرام کے نزدیک جائز نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے، اسی طرح طلباء پر تشدد یا مارپیٹ کرنے والے استاذ کو ملازمت سے برخاست تو کیا جاسکتاہے، لیکن اس کا بھی سیکورٹی ڈیپازٹ ضبط کرنے کی شرعا گنجائش نہیں ، نیز تین دن تاخیر سے آنے پر ایک پورے دن کی تنخواہ کاٹنا بھی جائز نہیں ہے ، ملازم نے جتناوقت دیاہے، اتنے وقت کی تنخواہ کا وہ مستحق ہے، جس دن کوئی ملازم تاخیر سے آئے توا س کی تنخواہ میں سے صرف اس تاخیر کے بقدر کٹوتی کی جاسکتی ہے ، البتہ ان تمام صورتوں میں ادارے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعزیر بالمال کی غیر شرعی عمل کے بجائے متبادل یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ ملازمت کے ابتدائی معاہدے میں یہ شق بڑھادی جائے ،اور اس پر ملازم سے معاہدہ کرتے وقت باقاعدہ دستخط لیا جائے کہ ادارے والے اس کی ایک دو مہینے کی تنخواہ ایڈوانس میں بطورِ ڈیپازٹ رکھیں گے اور اگر وہ خلاف معاہدہ ملازمت ترک کرکے جائیگاتواس صورت میں ادارہ ڈیپازٹ شدہ رقم کسی کار خیر میں خرچ کردے گی اور ملازم کو کوئی اعتراض کاحق نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی اعلاء السنن:التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسف، وعندہما وعند الأئمۃ الثلاثۃ لایجوز، وترکہ الجمہور للقرآن والسنۃ : وأما القرآن فقولہ تعالی :{فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم} ۔ وأما السنۃ فإنہ علیہ السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنہ خبر یدفعہ الأصول فقد أجمع العلماء علی أن من استہلک شیئاً لم یغرم إلا مثلہ أو قیمتہ الخ(ج11، ص733، باب التعزیر بالمال،ط۔ بیروت)
وفی الدر: (لا بأخذ مال في المذهب) بحر. وفيه عن البزازية: وقيل يجوز، ومعناه أن يمسكه مدة لينزجر ثم يعيده له الخ
وفی الرد تحت (قولہ: لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه الخ(کتاب الحدود، باب التعزیر،ج4،ص61،ط: ایچ ایم سعید)۔
وفی البدائع: وأما صفة الإجارة فالإجارة عقد لازم إذا وقعت صحيحة عرية عن خيار الشرط والعيب والرؤية عند عامة العلماء، فلا تفسخ من غير عذر الخ(کتاب الاجارۃ، فصل فی صفۃ الاجارۃ،ج4،ص201،ط:دارالکتب العلمیۃ)۔
وفیہ ایضا: قلت: إنما يكون المدرس من الشعائر لو مدرس المدرسة كما مر الخ
وفی الرد تحت (قوله: لو مدرس المدرسة) (إلی قوله) و في فتاوى الحانوتي يستحق المعلوم عند قيام المانع من العمل ولم يكن بتقصيره سواء كان ناظرا أو غيره كالجابي. (إلی قوله) وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا. (4/ 372)
وفی فقہ البیوع: لا یجوز أن یحمل المتخلف عن الوعد تعویضا الا بمقدار الخسارة الفعلية التی اصیب به الطرف الآخر مثل ان یضطر البائع الی بیع المبیع باقل من سعر تکلفته. والله سبحانہ وتعالی اعلم الخ(المبحث الاول،ج1،ص113،ط: مکتبۃ معارف القرآن)۔
و فی البحوث فی القضایا الفقہیۃ المعاصرۃ : و اما اذا التزم انہ ان لم یوفہ حقہ فی وقت کذا فعلیہ کذا و کذا لفلان او صدقۃ للمساکین (الی قولہ)و اما علی اصل الحنفیۃ فان الوعد غیر لازم فی القضاء لکن صرح فقہاء الحنفیۃ با ن بعض المواعید قد تجعل لازمۃ لحاجۃ الناس (الی قولہ) یجوز ان ینص فی عقود المداینۃ مثل المرابحۃ عند المماطلۃ بالتصدق بمبلغ او نسبۃ بشرط ان یصرف ذلک فی وجوہ البر بالتنسیق مع ھیئۃ الرقابۃ الشرعیۃ للمؤسسۃ اھ (1/38)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88453کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات