میری بیٹی ( کشمالہ) کا نکاح محمد وقاص کے ساتھ شرعی طور پر ہوا تھا۔ .1
نکاح کے وقت مہر کی رقم پانچ لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ .2
نکاح کے موقع پر دولہے کی طرف سے میری بیٹی کو پانچ تولے سونا بھی جو مہر میں شامل نہیں تھا پہنایا گیا تھا ۔ .3
نکاح کے بعد ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی، نہ ہی میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ (ازدواجی تنہائی) ہوئی۔ .4
بعد ازاں دولہے نے رخصتی سے پہلے ہی طلاق دے دی۔ .5
نکاح کے موقع پر میرے ذمے آنے والے تمام اخراجات (مہمان نوازی، کھانے، انتظامات وغیرہ) پر میرا کل خرچ تقریباً پندرہ لاکھ روپے آیا۔ .6
اب دولہا پانچ تولے سونا واپس مانگ رہا ہے۔ .7
برائے مہربانی مندرجہ بالا سات سوالات کے جوابات قرآن و سنت کی روشنی میں دے دیجئے ۔ شکریہ
واضح ہو کہ طلاق اگر خلوت صحیحہ یا رخصتی سے پہلے دی جائے تو اس صورت میں اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر دینا شوہر پر لازم ہوجاتا ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیٹی کا مہر چونکہ5 لاکھ مقرر کردیا گیا تھا ، اس لئے اب طلاق کی صورت میں شوہر پرڈھائی لاکھ روپے بطور حق مہر دینا لازم ہے جبکہ مہر کے علاوہ سائل کی بیٹی کے سابق شوہر نے اس کو جو پانچ تولہ سونا دیا تھا اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر شوہر کے خاندانی عرف اور تعامل کے مطابق نکاح کے موقعہ پر دیا جانے والا سونا اگر ملکیتاً دیا جاتا ہو تو ایسی صورت میں طلاق کے بعد شوہر کو اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر نکاح کے موقعہ پر دیا جانے والا سونا وغیرہ محض عاریتاً دیا جاتا ہو، بیوی کو مالک بنانا مقصود نہ ہو تو بعد میں یا طلاق کی صورت میں شوہر کو اس کی واپسی کا حق ہوتا ہے اور لڑکی والوں کا اسے روکنے کا شرعاً کوئی حق نہیں۔جبکہ نکاح کے موقع پر لڑکی کے والد کی طرف سے کیا جانے والا خرچہ چونکہ محض تبرع ہوتا ہے فریقین میں سے کسی کا ایک دوسرے کے ذمہ کوئی قرض نہیں سمجھا جاتا ، اس لئے سائل نے اپنی بیٹی کے نکاح کے وقت جو بھی اخراجات کئے ہیں وہ شرعاًتبرع اور احسان سمجھا جائے گا ،سائل کو اسکی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
کما فی الد المختار:(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة) فلو كان نكاح على ما قيمته خمسة كان لها نصفه ودرهمان ونصف (وعاد النصف إلى ملک الزوج (ج:3 ص:104مطبع ایچ ایم سعید)
وفیہ ایضا(والزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع ولو وهب لامرأته لا) كعكسه. (ج :5 ص: 704 مطبع: ایچ ایم سعید)
وفی الھدایۃ: قال: "وإن وهب هبة لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها" لقوله عليه الصلاة والسلام: "إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها"؛ ولأن المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل "وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر"؛ لأن المقصود فيها الصلة كما في القرابة، وإنما ينظر إلى هذا المقصود وقت العقد، حتى لو تزوجها بعدما وهب لها فله الرجوع، ولو أبانها بعدما وهب فلا رجوع.( ج:3 ص 292 مطبع :قدیمی کتب خانہ )