خلع

شوہر کے برے رویہ کی وجہ سے خلع لینا کا حکم

فتوی نمبر :
87500
| تاریخ :
2025-10-08
معاملات / احکام طلاق / خلع

شوہر کے برے رویہ کی وجہ سے خلع لینا کا حکم

میرا نکاح 21 ستمبر 2024 میں،،، سے ہوا ،،،، قطر میں رہائش پذیر ہیں ،جبکہ پاکستان میں انکی رہائش والدین کہ ساتھ نہیں، بچپن سے دادی نے پالا آج بھی آئیں تو وہیں رہتے ہیں ،میری رخصتی کیلئے آمادہ نہیں ہوئے اور کہا کہ رخصتی کے بعد میرے والدین کہ ساتھ رہنا ہو گا ،چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھوں گا ،جبکہ دوسری طرف ،،،، کےوالد کا رویہ بہت ہی عجیب رہا ،مجھ سے ملاقات کے بہانے تلاش کرتے اور سڑک پہ روک کے ملاقات کرتے جو نہایت نامناسب لگتا ،میرے والدین نے اس بات سے منع کیا ،لیکن وہ نہیں مانے اور رات دس بجے کےبعد ہر دوسرے دن آتے کہ۔۔۔ سے ملنا ہے، یہ سب میرے لئے ناقابل قبول تھا، ۔۔۔ بھی مجھے یہی کہتے کہ میرے والد ایسے ہی ہیں ،میں منع کروں گا کہ وہ ایسا نا کریں ،مگر کچھ عرصے بعد۔۔۔نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ ایسے ہی ہیں، تم مل لیا کرو اور اچھی خاطر مدارت کیا کرو، یہ سب باتیں انتہائی تکلیف کا باعث بنیں مگر۔۔۔کے کہنے کہ مطابق میں انکے والدین کو خوش کرنے کی کوشش کرتی رہی، اسکے برعکس ۔۔ کا رویہ بھی مجھے ذہنی اذیت مین مبتلا کر رہا تھا، میرے بارے میں عجیب و غریب باتیں کیں ،میری تذلیل کی، اور مجھے ایسی باتیں کہیں جو بیان کرنا مناسب نہیں ،۔۔۔کے کہنے کہ مطابق وہ بچے نہیں چاہتے ،بلکہ بچے ایڈاپٹ کر لیں گے اور دوسرا مجھے اپنے ساتھ قطر رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور یہ کہ مجھ سے بہتر انکی کولیگ ہے، میری شخصیت کا مزاق اڑاتے اور تضحیک کرتے ان سب باتوں کو سن سن کر میری ذہنی حالت متاثر ہوئی اور میرا نروس بریک ڈاون ھوا ،ہسپتال لے جانا پڑا اور دو ڈھائی گھنٹے بےہوش رہی ،اسکے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں اس شخص سے خلع چاہتی ہوں، جبکہ وہ خلع نہیں دے رہے میں اب اس ذہنی مریض کہ ساتھ نہیں رہنا چاہتی، مجھے خلع کا مطالبا کرنے پر دھمکایا گیا اور کہا کہ ساری زندگی خلع نہیں دوں گا ،مجھے شرعی تقاضے کہ تحت خلع کے لئے فتوی درکار ہے۔
نوٹ: میرا نکاح 21 ستمبر 2024 کو ہوا تھا۔شوہر پاکستان آئے تھے، جب نکاح ہوا تھا ،شوہر سے کسی قسم کا کوئی ازدواجی تعلق نہیں تھا۔کسی بھی قسم کی تنہائی میں ملاقات نہیں ہوئی ،شوہر اور اسکے گھر والے تنگ نظر اور چھوٹی سوچ کے مالک ہیں ،رخصتی کرنے میں تاخیر سسرال والوں کی جانب سے تھی اس وجہ سے کہ گھر گھرستی شروع ہونے کےبعد اخراجات بڑھ جائیں گے اور بیوی سارے مال پے قبضہ کر لے گی، اس وجہ سے تنازعات بڑھتے گئے اور انکی ذہنی سطح واضح ہو گئی ،لہذا میں ۔۔۔۔ اپنے شوہر کے غیر اخلاقی سلوک اور انصاف نا کرنے کی وجہ سے خلع لینا چاہتی ہوں ،اب میں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی جس کےلئے شرعی فتوی در کار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت ِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی خلاف حقیقت گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہواس طور پر کہ سائلہ کا شوہراسکے حقوق کی ادائیگی اور نکاح کے بعد رخصتی سے بلاوجہ انکاری ہو اور اسے مختلف طریقوں سے ذہنی اذیت سے دوچار کرتاہوتو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں،بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہا ہے۔تاہم اولاً سائلہ کو چاہیئے کہ وہ خاندان کے بڑوں اور بااثر افراد کے ذریعے شوہر کو حقوق کی ادائیگی پر رضامند کرکے مصالحت کرلے، بلاوجہ شرعی طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا شرعاًنا پسندیدہ فعل ہے جس سے بہر صورت گریز کرنا چاہیئے، البتہ اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود سائلہ کا شوہراپنی روش بدلنے اور رخصتی کرکے اسکے حقوق کی ادائیگی سے متعلق پس وپیش سے کام لے رہاہوں جس کی وجہ سے سائلہ ذہنی کوفت میں مبتلا ء ہورہی ہو تو اس کے شوہر کو چاہیئے کہ وہ از خود سائلہ کو اپنے نکاح کے بندھن سے آزاد کردے،تاکہ وہ دوسری جگہ نکاح کرکے اپنی زندگی گزار سکے،بلاوجہ محض اپنی انا کی تسکین کی خاطر کسی کو اذیت دینا سخت گناہ کی بات ہے جس سے احتراز چاہیئے،تاہم اگر حتی المقدور کوشش کے باوجود سائلہ کا شوہر اسے چھوڑنے پر آمادہ نہ ہو تو عدالتی کاروائی کے بجائے خاندانی مصالحتی کمیٹی کے ذریعے اسے طلاق بالمال یا خلع پر راضی کرنے کی کوشش کرے لیکن اگر اس کے باوجود وہ راضی نہ ہو تو اس صورت میں سائلہ کو بذریعہ قضاءِ قاضی فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (جج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بساکر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کاقائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے ۔چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی اور وہ عورت عدت گزارے بغیر اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کرسکے گی، یادرہے کہ عدالت میں جومقدمہ دائر کیاجائے،وہ شوہر کے تعنت کی بنیاد پر"تنسیخ نکاح "کا مقدمہ دائر کیاجائے،خلع کا مقدمہ ہر گز دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کاطریقہ کار اختیار کیا جائے،ورنہ فسخِ نکاح معتبر نہ ہوگا جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوٰی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے،لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہو،تو شوہر کے پاس باربارتنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکمًا"نکول عن الیمین" شمار ہوگا۔اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاس: قال أصحابنا إنھما لا یجوز خلعھا إلا برضی الزوجین فقال أصحابنا لیس للحکمین أن یفرقا إلا برضی الزوجین لأن الحاکم لا یملک ذلک فکیف یملکہ الحکمان و إنما الحکمان و کیلان لھما أحدھما وکیل المرأۃ و الآخر وکیل الزوج فی الخلع (إلی قولہ)و کیف یجوز للحکمین أن یخلعا بغیر رضاہ و یخرجا المال عن ملکھا الخ(ج: 3، ص: 153)۔
وفی المبسوط: (قال) و الخلع جائز عند السلطان و غیرہ لانہ عقد یعتمد التراخی کسائر العقود و ھو بمنزلۃ الطلاق بعوض و للزوج ولایۃ ایقاع الطلاق و لھا ولایۃ التزام العوض الخ (باب الخلع ج: 6، ص: 173، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیہ)۔
وفي الشامیۃ: (قوله فانه لغو) (الی قوله) قلت: قدمنا الفرق هناك، وهو أن الخلع بائن وهو لايلحق مثله، والطلاق بمال صريح فيلحق الخلع. (کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3 ، ص: 439 ، ط: سعيد)ـ
وفی الهداية : واذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث: فله ان يتزوجها فی العدة، وبعد انقضائها، لان حل المحلية باق: لان زواله معلق بالطلقة الثالثة ، فينعدم قبله الخ (فصل فيما تحل به المطلقة ، ج: 2 ، ص: 92 ،ط: انعامیۃ)۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ للحیلۃ العاجزۃ: و اما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،و الا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ (ص: 73 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87500کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خلع لینے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   خلع 3
  • خلع کے بدلے پوراحق مہرمعاف ہوگا یا آدھا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خلع 2
  • کورٹ کی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنے کے لئے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی بنیاد پر عدت میں بیٹھنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کورٹ سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لینے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے بیوی خلع لے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • مروجہ یکطرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • کیا خلع کے بعد عورت اپنے زیور اور حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کی صورت میں بیوی سے حق مہر اور دیگر گفٹ کردہ اشیاء واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • بیوی کا غلط الزامات لگا کر کورٹ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 1
  • اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ گھر بسائے تو یکطرفہ خلع سے نکاح ختم ہوجائے گا ؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد دوبارہ شوہر کے پاس جانا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • باہمی رضامندی سے ہونے والے" خلع"کی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعدکیے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
Related Topics متعلقه موضوعات