بخدمت جناب مفتی صاحب !السلام علیکم !گذارش و عرض یہ ہے کہ ہم چھ بہن بھائی ہیں، والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ہمارے والد گذشتہ 50 سالوں سے جادو اور سفلی کا عمل کرتے ہیں،جس کی تصدیق متعدد علماء کرام اور عاملین حضرات کر چکے ہیں، جن کی رہائش ہمارے گھر سے قریب ہے،جس کی وجہ سے ہم بہن بھائی اور ہماری اولاد بہت زیادہ متاثر ہیں،جس کی وجہ سے ہم اور ہماری اولاد اور بھائیوں کی بیویاں ،بہنوں کے شوہر اکثر بیمار رہتے ہیں،بیٹوں اور داماد کے کاروبار تباہ ہیں، جس کی وجہ سے ہماری معاشرتی زندگی خراب ہو چکی ہے، بچوں کی تعلیم وغیرہ کے معاملات بھی خراب ہیں۔1۔ہماری زندگیاں بربا د کر کے ہمارے رہائشی مکانات فروخت کر کے ہمیں بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔2۔ہم سب بہن بھائی ان سے متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں آزاد کردیں ،ہمیں جائیداد نہیں چاہیئے،آپ جو کرتے ہیں،بس ہمیں آزاد کردیں،لیکن وہ آزاد نہیں کرتے اور ہمیں یہ کہتے ہیں کہ تم کو مسل کر رکھ دونگا،اور تم کو غیروں تک پہنچاؤں گا۔3۔ہم متعدد علماء اور عاملین جو کہ اہل حق ہیں،ان کے پاس جا چکے ہیں،سب نے یہ رائے دی ہے،جب تک ہمارے والد سفلی معاملات کرتے رہیں گے،حالات ایسے ہی رہیں گے۔ ایک مولانا صاحب نے یہ کہا تھا کہ ان کو اس عمل سے روکو،پس کچھ عرصہ کے لئے داخل کر کے جیسا کہ اولڈ ہاوس وغیرہ میں، آپ سے قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی درکار ہے۔شکریہ۔ والسلام!
مزید وضاحت: سوال میں اہم سوال نمبر تین ہے،اس کا جواب دینا ہے کہ کیا ہم بہن بھائی والد کو ان ناجائز عملیات سے باز رکھنے کے لئے اولڈ ہاوس میں داخل کراسکتے ہیں۔
واضح ہو کہ والدین کا ادب و احترام اور محتاجی کے وقت ان کی دیکھ بھال اور خدمت کرنا اولاد کی ذمّہ داری کے ساتھ سعادت مندی کی علامت ہے،لہذا سائل کا والد اگر واقعۃً سفلی عمل کا ارتکاب کرتا ہو،تو چونکہ وہ خلافِ شرع اور ناجائز یا کفریہ امور پر مشتمل ہوتا ہے،اس لئے اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں،جس پر اسے توبہ و استغفار اور اگراس نے کفریہ امور کا ارتکاب کیا ہو،تو تجدیدِایمان و تجدیدِ نکاح،اور آئندہ کے لئے ان امور سے اجتناب لازم ہے،لیکن اگر وہ خدمت اور دیکھ بھال کا محتاج ہو ،تو اولاد کے لئے اسے اولڈ ہاؤس میں داخل کرانے کے بجائے اس کی دیکھ بھال اور خدمت کا اہتمام کرنا چاہیئےاور حکمت اور نرمی کے ساتھ اسے سمجھا کر ان امور سے روکنے کی کوشش بھی کرتے رہنا چاہیئے،ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ ان ناجائز امور سے باز آجائے۔