میں نے سنا ہےکہ قادیانیوں کو قتل کرنا واجب ہے، لاہور میں ہونے والا حادثہ آپ کے سامنے ہے ،جو حال ہی میں واقع ہوا ہے جس میں تقریباً سو قادیانی مارے گئے ہیں۔ اس میں ایک عجیب بات ہے، جو میں نے نوٹ کی ہے (وہ یہ ہے) کہ کسی عالم نے بھی اس حادثہ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، اس وجہ سے کہ قادیانی واجب القتل ہے۔
اگر کوئی شخص دائرۂ اسلام سے نکل کر قادیانی بن جائے (نعوذ باللہ) تو بلا شبہ وہ مرتد ہو چکا ،اگر وہ تو بہ تائب ہو کر دوبارہ دائرۂ اسلام میں داخل نہ ہو تو وہ واجب القتل ہے۔ مگر اس کا اختیار ہرکس و ناکس کو نہیں، بلکہ حاکمِ وقت کو ہے ،جبکہ مذکور دھما کہ یا اس طرح کے دوسرے دھماکے جن میں عام لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں، یقیناً ملک دشمن عناصر کی سازشوں کا حصہ ہے علماء ایسے واقعات کی ، بجائے تائید کے مذمت بیان کرتے ہیں اور مذکور حادثہ پر بھی مذمتی بیان آن دی ریکارڈ موجود ہے جن کی طرف بوقتِ ضرورت رجوع کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو ایسے سازشی امور سے احتراز چاہئیے۔
كما في الفتاوى الهندية: إذا ارتد المسلم عن الإسلام والعياذ بالله عرض عليه الإسلام فإن كانت له شبهة أبداها كشفت إلا أن العرض على ما قالوا غير واجب بل مستحب كذا في فتح القدير ويحبس ثلاثة أيام فإن أسلم وإلا قتل اھ (2/ 253)۔
و في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: والخلاصة: أنه يعرض الإسلام استحباباً عند الحنفية، ووجوباً عند غيرهم على المرتد، فإن كانت له شبهة كشفت له، إذ الظاهر أنه لا يرتد إلا من له شبهة. ويحبس ثلاثة أيام ندباً عند الحنفية، ويعرض عليه الإسلام في كل يوم، فإن أسلم فبها، وإن لم يسلم قتل، لحديث: «من بدل دينه فاقتلوه». ولا يقتل المرتد إلا الإمام أو نائبه، فإن قتله أحد بلا إذنهما، أساء اھ (7/ 5582)۔