گناہ و ناجائز

ادارے کا ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے پر موبائل توڑنا

فتوی نمبر :
87030
| تاریخ :
2025-10-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ادارے کا ضابطہ کی خلاف ورزی کرنے پر موبائل توڑنا

موجودہ دور کے بعض تعلیمی اداروں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔ ادارے کی طرف سے صاف طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر کسی کے پاس اینڈرائیڈ فون پایا گیا تو وہ ضبط کر لیا جائے گا یا توڑ دیا جائے گا۔ بعد میں بعض طلبہ ادارے کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔ اس بنا پر جب کسی ممنوعہ مدت میں کسی طالب علم کے پاس موبائل پایا جاتا ہے تو ادارہ اسے ضبط کرنے اور توڑ دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔اب میرا سوال یہ ہے کہ:
مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟اگر کوئی طالب علم موبائل استعمال کرے تو ادارے کے لئے اس موبائل کو ضبط کرنا اور توڑ دینا جائز ہوگا یا نہیں؟ موبائل توڑ دینا کیا مالی جرمانے کے حکم میں شمار ہوگا؟ اور موبائل توڑنے کی وجہ سے ادارے یا استاد پر ضمان لازم آئے گا یا نہیں؟براہ ِکرم دلائل و مآخذ کے ساتھ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ دور میں اسمارٹ موبائل کے غیر ضروری استعمال کی کثرت کی وجہ سے اخلاقی فساد کے ساتھ ساتھ ضیاعِ وقت کا ماحول بن چکا ہے جو تعلیمی امور کے لئے انتہائی درجہ مُضِر اور تعلیم کے حصول میں رکاوٹ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس لئے تعلیمی اداروں میں اس پر مکمّل طور پر یا کم از کم مُنظَّم پابندی انتہائی ناگزیر اور ضروری ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلباء ان غیر ضروری چیزوں کے بجائے تعلیم کے حصول پر دھیان دے سکیں ۔ لیکن اس پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی طالب علم سے موبائل مستقل ضبط کرلینا یا توڑدینا تعزیرِ مالی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ، بصورتِ دیگر انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔
البتہ تعلیمی امور میں بہتری اور طلباء کے اوقات کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ایسا ضابطہ بنایا جاسکتا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں تا اختتامِ تعلیمی سال موبائل فون ضبط کرکے انتظامیہ کے پاس بطورِ امانت محفوظ رہے اور تعلیمی سال مکمَّل ہونے پر اسے واپس کر دیا جائے یا ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والے طالب علم کا اخراج کردیا جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الشامية:تحت (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن ‌معنى ‌التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. (باب التعزير: مطلب: في التعزيربأخذ المال ج4 ص61 ط:سعید)۔
و في شرح القواعد الفقهية:المباشر للفعل ضامن لما تلف بفعله إذا كان متعدياً فيه ، ويكفي لكونه متعدياً أن يتصل فعله في غير ملكه بمالا مسوغ له فيه سواء كان نفس الفعل سائغاً(الی قولہ)أو غيرسائغ(الی قولہ)وإن لم يتعمد الإتلاف ، لأن الخطأ يرفع عنه إثم مباشرة الإتلاف ولا يرفع عنه ضمان المتلف بعد أن كان متعدياً الخ ( القاعدة الحادية والتسعون المادة / 92 ص453 ط: دارالقلم)۔
و في مجمع الضمانات: المباشر ضامن وإن لم يتعد والمتسبب لا إلإ إذا كان متعديا. (الباب الحادي عشر الفصل الرابع ص: 34 ط: رشيدية)۔
و في المجلّة:( المادة 416 )الضمان هو إعطاء مثل الشيء إن كان من المثليات وقيمته إن كان من القيميات.(ص:267 ط: دار ابن حزم)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 87030کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات