گناہ و ناجائز

میت کمیٹی بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
86998
| تاریخ :
2025-09-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

میت کمیٹی بنانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بڑوں نے پشاور میں مقیم اپنے کمیونٹی کے غربت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے "البر کمیٹی" کے نام سے جو ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کے مخصوص اراکین ہیں، اور ہر رکن سالانہ 3000 روپے باقاعدگی سے بطور چندہ جمع کراتا ہے، کمیٹی کا بنیادی مقصد درج ذیل خدمات انجام دینا ہے۔1۔۔ اگر ہمارے گاؤں سے کوئی مریض (جو کمیٹی کے اراکین میں سے کسی کا قریبی رشتہ دار ہو ہمارے شہر (جہاں ہم مقیم ہیں) میں آکر فوت ہو جائے،تو گاؤں تک میت کی منتقلی کے اخراجات کمیٹی برداشت کرتی ہے۔ 2۔۔اگر ہم کمیٹی کے اراکین میں سے کوئی مسافر ساتھی فوت ہو جائے، تو اس کی تجہیز و تکفین، اور گاؤں پہنچانے کا بندوبست بھی کمیٹی کے ذمے ہوتا ہے۔ 3۔۔ اسی طرح اگر کسی رکنِ کمیٹی کے قریبی رشتہ دار (جن کی فہرست پہلے سے طے شدہ ہے) گاؤں میں فوت ہو جائے، تو کمیٹی اس رکن کو گاؤں جانے کے لئے سفری اخراجات مہیا کرتی ہے۔ 4۔۔بعض مواقع پر کمیٹی میت کے اہلِ خانہ کو ایک یا دو وقت کا کھانا بھی فراہم کرتی ہے(جس پر کبھی کم رقم خرچ ہوتی ہے کبھی زیادہ )۔ 5۔۔ یہ تمام سہولیات یعنی میت گاؤں تک پہنچانے کا خرچہ، اسی طرح گاؤں میں کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہوجائے، تو گاؤں جانے والے اراکین سفری اخراجات کمیٹی سے اپنا حق لازم سمجھ کر وصول کرتے ہیں، کمیٹی پر یہ سہولیات مہیا کرنا لازم سمجھے جاتے ہیں۔ 6۔۔میت گاؤں تک پہچانے کے لئے کمیٹی بعض اوقات ایک گاڑی کا بندوبست کرتی ہے اور بعض اوقات دو کا، یعنی میت پہنچانے کے لئے سہولت مہیا کرنا متعین نہیں کبھی کم کبھی زیادہ ۔7۔۔بعض اراکین ایسے ہیں جو کئی سالوں سے چندہ دے رہے ہیں، لیکن ابھی تک ان کے ہاں کوئی فوتگی نہ ہونے کی وجہ وہ کمیٹی سے کوئی سہولت نہیں لے سکیں، جبکہ بعض ایسے ہیں جن کے ہاں کئی فوتگیاں ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کمیٹی سے سہولت لے چکے ہیں،ہم اس نظام کو منظم طریقے سے چلا رہے ہیں، تمام ارکان اس پر رضامند ہیں، اور کمیٹی کا دائرہ خدمات صرف انہی ممبران تک محدود ہے جو باقاعدہ چندہ جمع کراتے ہیں، البتہ بعض اوقات گاؤں کا کوئی فرد جو کمیٹی کے ارکان میں کسی کا قریبی رشتہ دار نہیں ہوتا، اور وہ پشاور میں فوت ہوجائے تو کمیٹی اس کے ساتھ بھی کچھ نہ کچھ تعاون کرتی ہے،اسی طرح یہاں پڑھنے والے طلبہ (جو چندہ دینے سے مستثنی ہیں ) کے ساتھ حادثہ کی صورت میں بھی مکمل تعاون کیا جاتا ہے.،ہم شریعت کی روشنی میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا "البر کمیٹی" کے اس نظم اور خدمات کی یہ شکل شرعی اصولوں کے مطابق درست ہے؟2۔۔ کیا ممبران سے مقررہ رقم (مثلاً 3000 روپے سالانہ) بطورِ شرط لینا اور صرف چندہ دینے والے اراکین کو فائدہ دینا جائز ہے؟3 ۔۔کیا یہ نظام "وقف علی النفس(فی النقود ) " یا "قمار" کی ممانعت میں تو نہیں آتا؟4۔۔اگر کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کا متبادل شرعی طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ تعاون اور تناصر ایک مستحسن عمل ہے، جس کی خوبی کسی سے مخفی نہیں، چنانچہ اگر کسی برادری یا اہلِ محلہ کے چند افراد مل کر کمیٹی / ٹرسٹ بنائیں اور پھر اس میں جمع شدہ رقم سے شرائط وضوابط کے مطابق مرحومین کی تجہیز و تکفین اور ان کے پسماندگان کے ساتھ ممکنہ تعاون کریں، تو یہ صرف جائز ہی نہیں بلکہ شرعاً وعرفاً ایک مستحسن عمل ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہےکہ کمیٹی تشکیل دینے میں شرعی اصول و ضوابط کا لحاظ رکھا جائے،چنانچہ سائل کی برادری نے ”البر کمیٹی“کے نام سے جو کمیٹی تشکیل دی ہے،یہ اگر باقاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر نہ ہو،بلکہ محض لوگوں سے پیسے جمع کیے جاتے ہوں،اور پھر غمی وغیرہ کسی خاص موقع پر ان کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہو،تو یہ طریقہ کار شرعی لحاظ سے درست نہیں،البتہ مذکورکمیٹی/ٹرسٹ اگر باقاعدہ وقف فنڈ کی بنیاد پر قائم کیا جائے، اس طور پر کہ شروع میں اس کمیٹی کے کچھ ممبران مخصوص رقم وقف کر کے مستقل ایک فنڈ قائم کریں جو کہ کمیٹی کے قائم رہنے تک ( مطلوبہ ) اخراجات کے لیے استعمال نہ ہو، بلکہ وہ رقم محفوظ رہےاور کمیٹی تحلیل ہونے کی صورت میں اس رقم کے فقراء ومساکین پر خرچ کرنے کی تصریح کردی جائے،اس کے بعد کمیٹی/ٹرسٹ میں شامل ہونے والے افراد باہمی رضامندی سے متعین مقدار میں اس قائم کردہ وقف فنڈ میں رقم جمع کراتے رہیں، جو کہ فقہی لحاظ سے مملوکِ وقف شمار ہو گی، اور اس مملوکِ وقف (چندہ) کو کمیٹی / ٹرسٹ کی شرائط وضوابط کے مطابق مطلوبہ اخراجات میں خرچ کیا جائے، تو مذکور مقصد کے لئے درجِ بالا طریقۂ کار کے مطابق کمیٹی/ٹرسٹ بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في سنن الترمذي : عن عبد الله بن جعفر قال: لما جاء نعي جعفر، قال النبي صلى الله عليه وسلم: «اصنعوا لأهل جعفر طعاما، فإنه قد جاءهم ما يشغلهم»: «هذا حديث حسن»، «وقد كان بعض أهل العلم يستحب أن يوجه إلى أهل الميت شيء لشغلهم بالمصيبة الخ (باب ما جاء في الطعام يصنع لأهل الميت،ج 3،ص 314،ط: مصطفى البابي الحلبي – مصر)۔
و فی السنن الكبرى البيهقي : عن أبي حرة الرقاشي ، عن عمه ، أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :" لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه (رقم، 11325، باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا،ج 6،ص 100،ط:دار الباز۔مکۃ المکرمۃ)۔
و فی الدر المختار: ولا بأس بنقله قبل دفنه وبالإعلام بموته(الی قولہ) وباتخاذ طعام لهم الخ
و فی الشامیۃ تحت: (قوله و باتخاذ طعام لهم) قال في الفتح و يستحب لجيران أهل الميت و الأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم و ليلتهم ، لقوله - صلى الله عليه و سلم -”اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم“ حسنه الترمذي و صححه الحاكم و لأنه بر و معروف ، و يلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون الخ (مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت ،ج 2،ص 240،ط:سعید)۔
و فیه ایضاً :ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية و غيرها في وقف الدراهم و الدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز و قفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري و الله تعالى أعلم وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها و لم يحك خلافا ما في المنح قال الرملي : لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف ، و إفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل ؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر و أفتى به الخ(مطلب في وقف المشاع المقضي به،ج 4،ص 363،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مراد علی نمیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86998کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات