السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!
میری طلاق جولائی 2025 میں ہوئی۔ بچوں کی حضانت میرے پاس (والد) کے سپرد ہے اور وہی برقرار رہے گی، جبکہ والدہ نے خود اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بچے کی حضانت نہیں لیں گی۔میری سابقہ بیوی کے والد (یعنی بچوں کے نانا) کے بارے میں:انہوں نے اپنی تینوں بیویوں پر مسلسل جسمانی اور ذہنی تشدد کیا اور بالآخر سب کو طلاق دے دی۔ ان کی آخری بیوی پر ہونے والا ظلم میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس میں انہوں نے نہایت بُری طرح اسے مارا پیٹا۔ اس سے پہلے وہ اپنی دوسری بیوی کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنا چکے ہیں، یہاں تک کہ اس کے بال کاٹے اور اُس پر چھری تک چلائی۔ یہ سب واقعات محض انفرادی نہیں ہیں بلکہ پورے خاندان کے علم میں ہیں اور سب لوگ ان کی انتہائی جارحانہ اور خطرناک طبیعت کے گواہ ہیں۔وہ میرے گھر پر آ کر مجھ پر حملہ آور ہوئے، چہرے کے بال نوچے اور مجھے مارا۔اور مجھ پر دباؤ ڈالا کہ میں ان کی بیٹی کو طلاق دوں۔انہوں نے میری والدہ کو محلے کے سامنے گالیاں دیں اور بے عزتی کی۔اس واقعہ کے ویڈیو و آڈیو شواہد میرے پاس موجود ہیں۔اس واقعے کو کم از کم چار مرد پڑوسیوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جو بطور گواہ موجود ہیں ۔میرے تینوں بچوں نے بھی یہ سب دیکھا اور وہ شدید صدمے میں چلے گئے۔ایسی صورتحال میں مجھے قوی خدشہ ہے کہ یہ شخص میرے بچوں کے لئے ذہنی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے نقصان دہ ہے۔سوال:کیا شریعت کی رو سے مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے بچوں کو ان کے نانا سے ملنے یا تعلق رکھنے سے روک دوں؟کیا ان کی حفاظت اور دینی و اخلاقی سلامتی کے پیش نظر مکمل پابندی لگانا جائز ہے؟اگر دارالافتاء مناسب سمجھے تو ملاقات کو صرف نگرانی شدہ ماحول میں محدود کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی (دیوبندی) کے اصولوں کی روشنی میں واضح فتویٰ مرحمت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً!
میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوجانے کی صورت میں اگر فریقین کی باہمی رضامندی سے بچے والد کی پرورش میں دے دیئے گئے ہوں ، اور بچوں کے نانا سے زیادہ میل جول کی وجہ سے واقعۃ ً ا ن کے دین اور اخلاق متاثر ہونے کا اندیشہ ہو ، تو سائل بچوں کی دینی و اخلاقی سلامتی کے پیش نظر نانا سے ان کے میل جول کو محدود کرسکتا ہے، مگر مکمل پابندی لگا نا درست معلوم نہیں ہوتا ، تاہم نانا کے علاوہ والدہ ، خالاؤں وغیرہ کو ان کے ملاقات روکنادرست نہ ہوگا ۔ بلکہ وہ جب چاہیں بچوں سے ملاقات کرسکتی ہیں ۔
کما فی رد المحتار: تحت ((قوله: في بيت الراب) بتشديد الباء اسم فاعل( الی قوله)قلت: الأصوب التفصيل(الی قوله)فينبغي للمفتي أن يكون ذا بصيرة ليراعي الأصلح للولد، فإنه قد يكون له قريب مبغض له يتمنى موته ويكون زوج أمه مشفقا عليه يعز عليه فراقه فيريد قريبه أخذه منها ليؤذيه ويؤذيها، أو ليأكل من نفقته أو نحو ذلك، وقد يكون له زوجة تؤذيه أضعاف ما يؤذيه زوج أمه الأجنبي وقد يكون له أولاد يخشى على البنت منهم الفتنة لسكناها معهم، فإذا علم المفتي، أو القاضي شيئا من ذلك لا يحل له نزعه من أمه لأن مدار أمر الحضانة على نفع الولد، وقد مر عن البدائع: لو كانت الإخوة والأعمام غير مأمونين على نفسها، أو مالها لا تسلم إليهم(الی قوله)أن الحق أن على المفتي أن ينظر في خصوص الوقائع اھ ( باب الحضانة ج:3 ص:565 ناشر: ایچ ایم سعید)
وفیه ایضا: تحت (قوله: إخراجه إلخ) أنت خبير بأن هذا محمول على ما إذا لم يكن لها حق الحضانة(الی قوله)ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده اھ ( باب الحضانة ج:3 ص: 571 ناشر: ایچ ایم سعید)