گناہ و ناجائز

کسی پر الزام لگا کرپیسے لینا

فتوی نمبر :
86359
| تاریخ :
2025-09-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی پر الزام لگا کرپیسے لینا

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اندرونِ سندھ نواب شاہ کا رہائشی ہوں ، ہمارے ہاں ایک رواج چل پڑا ہے اس بات کا، کہ اگر کسی شخص کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی ہو، تو وہ اس آدمی پر الزام لگا دیتا ہے کہ اس شخص کا میری بیوی کے ساتھ ناجائز تعلق ہے ، پھر اس کی آڑ میں اس شخص سے جس پر الزام لگایا ہے ، بھاری معاوضہ طلب کیا جاتا ہے ، اگر وہ معاوضہ نہیں دیتا تو اسے یا اس کے خاندان میں سے کسی ایک کو قتل کیا جاتا ہے ، اور اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں کہ معاوضہ نہ دینے پر جس پر الزام لگایا ہے اسے قتل کیا جا چکا ہے ، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس رواج کا شرعا ً کیا حکم ہے ، اور کیا جان بچانے کے لیے اس میں رقم دینا یا اگر وہ رقم نہ ہو تو اس کے بدلے میں لڑکیاں دینا شرعاً جائز ہے؟ اور اس طرح کا کام کرنے میں جو لوگ مدد کرتے ہیں شرعاً ان سہولت کاروں کا کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کے علاقہ کا مذکورہ رواج شریعتِ مطہرہ کے خلاف ،ظلم پر مبنی اور قابلِ مذمت ہے،کیونکہ رسول اللہﷺ نے مسلمان کی عزت و آبرو کو کعبہ سے زیادہ محترم اور ایک مسلمان کی پردہ دری و بے حرمتی کو کعبۃ اللہ کے ڈھانے سے بھی بڑاجرم قرار دیا ہے، جبکہ قرآن کریم نے ایک مسلمان کی ناحق قتل کو پوری انسانیت کے قتل کرنے کا مترادف قرار دیا ہے، لہذا اولاًکسی شخص کا کسی کے ساتھ دشمنی کی آڑ میں اس پر اور اپنی بیوی پر تہمت و بہتان تراشی کا الزام لگانا شرعاً ناجائز ہونے کے ساتھ ساتھ غیرتِ انسانی کے خلاف اور ایک مسلمان کی پردہ دری کرنے کے مترادف ہے جس پر قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اور اس بہتان تراشی کے بعد اس سے بھاری رقم طلب کرنا اور رقم کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں اسے یااس کے خاندان کے کسی فرد کو قتل کرنا یا ان سے لڑکی کامطالبہ کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے ،اور اس ناجائز فعل میں ان کی معاونت کرنے والے بھی اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں،اس لئے اہل علاقہ کو چاہیئے کہ وہ آپس میں بیٹھ کر قانون کا سہارا لیتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کی مکمل کوشش کریں ، تاہم اگر ان سے جان چھڑانے کا پیسے دینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو اور اپنی جان،عزت و آبرو کے مجروح ہونے کا قوی اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں اپنی جان ، عزت و آبرو کی حفاظت کی غرض سے پیسے دینے کی شرعاً گنجائش ہے ، لیکن پیسہ وصول کرنے والوں کے لیے پیسے لینا قطعاً حرام ہے ۔جبکہ ایسے جرائم پیشہ افراد کو لڑکیاں دینا شرعاً جائز نہیں، اس لیے ایسے معاملات میں لڑکیاں دینے سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: من أجل ذلک کتبنا علی بنی إسرآئیل أنہ من قتل نفس بغیر نفس أو فساد فی الأرض فکأنما قتل الناس جمیعا و من أحیاھا فکأنما أحیا الناس جمیعا (المائدہ، الآیۃ،32)۔
و قال اللہ تعالی: و تعاونوا علی البر والتقوی و لا تعاونوا علی الإثم و العدوان ( المائدۃ ، الآیۃ 2،)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: ( و تعاونوا علی البر و التقوی ) یقتضی ظاھرہ ایجاب التعاون علی کل ما کان طاعۃ اللہ لأن البر ھو طاعات اللہ و قولہ تعالی ( ولا تعاونوا علی الإثم و العدوان ) نھی عن معاونۃ غیرنا علی معاصی اللہ تعالی الخ ( ج: 2، ص 303، ط: سہیل اکیڈمی لاھور)۔
و فی سنن أبی داؤد: عن سعید بن زید عن النبی ﷺقال إن من أربی الربا الاستطالۃ فی عرض المسلم بغیر حق الخ ۔
قال العلامۃ محمد زکریا الکاندھلوی فی حاشئتہ تحت ( إن من أربا الربا أی أقبحھا و أفشحھا الإستطالۃ فی عرض المسلم بغیر حق فإنھا ذیادۃ خالیۃ عن العوض حیث لم یفعل لہ صاحبہ شیئا و لم ینل من عرضہ کما نال ھو و فیہ إشارۃ إلی أن الربا قال اللہ فیہ ( فإلم تفعلوا فأذنوا بحرب من اللہ و رسولہ ( البقرۃ 297،) فما کان أربی الربا فھو أحق بالوعید الخ ( کتاب الأدب باب فی الغیبۃ ج: 2، ص: 1659، ط: بشری)۔
و فی سنن ابن ماجۃ: حدثنا عبد اللہ بن عمر قال رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یطوف بالکعبۃ و یقول ما أطیبک و أطیب ریحک ما أعظمک و أعظم حرمتک و الذی نفس محمد بیدہ لحرمۃ المؤمن اعظم عند اللہ حرمۃ منک مالہ و دمہ و أن نظن بہ إلا ٖخیر الخ ( أبواب الفتن باب حرمۃ دم المؤمن و مالہ ص: 781، ط: بشری)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن ابی حرۃ الرقاشی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ (الفصل الثانی ج: 1، ص: 255، ط: قدیمی)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: تحت الحدیث (لا یحل مال امرئ) ای مسلم او ذمی إلا (بطیب نفس) أی بأمر او رضا (منہ) )ج: 6، ص: 149، ظ: حقانیۃ)۔
و فی الدر المختار: لا بأس بالرشوۃ إذا خاف علی دینہ و النبی ﷺکان یعطی الشعراء و لمن خاف لسانہ و کفی بسھم المؤلفۃ من الصدقات دلیلا علی أمثالہ الخ
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ إذا خاف علی دینہ ) عبارۃ المجتبی لمن یخاف و فیہ أیضا دفع المال السلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ و مالہ و الإستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع الخ ( باب الإستبراء و غیرہ فصل فی البیع ج: 6، ص 423،ط: سعید )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محسن نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86359کی تصدیق کریں
0     6
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات