گناہ و ناجائز

گھر میں کسی کی موت اور بیماری کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرانا

فتوی نمبر :
85518
| تاریخ :
2025-08-23
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گھر میں کسی کی موت اور بیماری کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرانا

میری چھوٹی بہن کا انتقال آج سے تقریباً ساڑھے چار سال پہلے کووِڈ (جو اُس کو حمل کے دوران ہوا تھا) کی وجہ سے ہوا تھا۔ میری والدہ اُس کے انتقال کی وجہ مجھے سمجھتی ہیں کیونکہ میری شادی نہیں ہو سکی تھی اور اُنہیں لگتا ہے کہ میں نے اُس کو نظر لگا دی تھی، حالانکہ خدا گواہ ہے میرے دل میں کبھی ایسی بات نہیں آئی۔
ہاں، ایک دو بار اُس کے ہتک آمیز رویّے کی وجہ سے میں نے اُس کو یہ کہا تھا کہ اللہ پوچھے گا۔ اُس کا شوہر دوسری شادی کر چکا ہے اور اُس کے بیٹے کی پرورش کی ساری ذمہ داری اُس کے انتقال کے بعد سے مجھ پر ہے، لیکن میرے گھر والوں کا سلوک میرے ساتھ ٹھیک نہیں۔
کیا میری والدہ کا ایسا سوچنا اور کہنا جائز ہے؟ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی انسان کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ وہ اُس پر قدرت رکھتا ہے کیا یہ شرک نہیں؟
میرے بھائی نے ایک دن مجھ سے بدسلوکی کی اور گالیاں دیں، اُس دن اُس کے بیٹے کی طبیعت خراب ہو گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ میری وجہ سے ہوا ہے، حالانکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حاجی بھی ہیں۔
کیا ایسا عقیدہ رکھنا شرک نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زندگی اور موت، صحت و بیماری، نفع و نقصان سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں، بندہ ان امور پر بالکل قادر نہیں۔ کسی انسان کو موت یا بیماری کا سبب مان کر اس پر الزام لگانا درست نہیں، بلکہ اس میں توہم پرستی کی جھلک پائی جاتی ہے۔
شریعت میں "نظر" (بری نظر) کا اثر ضرور ثابت ہے، مگر وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم اور تقدیر کے بغیر اثر انداز نہیں ہوتی۔ لہٰذا کسی کے بارے میں یہ یقین رکھنا کہ وہ اپنے اختیار سےکسی شخص کی موت یا بیماری سبب بنا ہے، یہ غلط اور ناجائز عقیدہ ہے۔جس سے بہرصورت احترازلازم ہے۔
لہذا،سائلہ کی والدہ اور بھائی کو چاہیےکہ ایسے بے بنیاد وسوسوں سے توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کریں، اورمرحومہ کے انتقال کوتقدیرخدااوندی اورقضاءالہی سمجھ کرصبرکریں اورمرحومہ کے لیے ایصالِ ثواب ودعائے مغفرت کریں۔ سائلہ کو بھی چاہیے کہ اہلِ خانہ کی سخت باتوں پر صبر و درگزر سے کام لے اور بھانجے کی پرورش کو سعادت اور خدمتِ خلق سمجھ کر خوش دلی سے انجام دیتی رہے۔اللہ پاک ضروراسے اجرجزیل عطافرمائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن الترمذي : عن يحيى بن أبي كثير قال: حدثني حية بن حابس التميمي قال: حدثني أبي، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «‌لا ‌شيء ‌في ‌الهام، والعين حق»(4/ 397)
و فی مختصر زوائد مسند البزار على الكتب الستة ومسند أحمد : عن جابربن عبدالله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أكثر من يموت من أمتي بعد كتاب الله وقضائه وقدره بالأنفس»(1/ 643)
«فتح الباري» لابن حجر :(قوله باب العين حق)
أي الإصابة بالعين شيء ثابت موجود أو هو من جملة ما تحقق كونه قال المازري أخذ الجمهور بظاهر الحديث وأنكره طوائف المبتدعة لغير معنى لأن كل شيء ليس محالا في نفسه ولا يؤدي إلى قلب حقيقة ولا إفساد دليل فهو من متجاوزات العقول فإذا أخبر الشرع بوقوعه لم يكن لإنكاره معنى۔۔۔وأخرج مسلم من حديث بن عباس رفعه العين حق ولو كان شيء سابق القدر لسبقته العين وإذا استغسلتم فاغسلوا فأما الزيادة الأولى ففيها تأكيد وتنبيه على سرعة نفوذها وتأثيره في الذات وفيها إشارة إلى الرد على من زعم من المتصوفة أن قوله العين حق يريد به القدر أي العين التي تجري منها الأحكام فإن عين الشيء حقيقته والمعنى أن الذي يصيب من الضرر بالعادة عند نظر الناظر إنما هو بقدر الله السابق لا بشيء يحدثه الناظر في المنظور»(10/ 203 ط السلفية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85518کی تصدیق کریں
0     28
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات