گناہ و ناجائز

والد کی جانب سے ہر ممکن کوشش کے باوجود بچے کو گود لینے والا اس کی ولدیت کو خود کی طرف منسوب کرتا ہو تو والد گناہ گار ہوگا؟

فتوی نمبر :
85411
| تاریخ :
2025-08-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والد کی جانب سے ہر ممکن کوشش کے باوجود بچے کو گود لینے والا اس کی ولدیت کو خود کی طرف منسوب کرتا ہو تو والد گناہ گار ہوگا؟

السلام علیکم !حضرات مفتیان کرام !ایک مسئلہ کا جواب درکار ہے۔ سائل نے اپنا بیٹا پیدا ہوتے ہی اپنی بہن کو دے دیا ،تو سائل کو بتائے بغیر ہی اس کے بہنوئی نے بچے کے تمام سرٹیفکیٹس اور کاغذات میں اصل ولدیت کی بجائے اپنی ولدیت درج کروا دی، سائل نے اب اپنی جانب سے ہر طریقے سے کوشش کر لی ہے کہ بچے کی اصل ولدیت سے اس کا نام درج کروایا جائے ،جبکہ بہنوئی یہ کہہ رہا ہے کہ اب میں نے ہر جگہ پہ بچے کا نام اپنی ولدیت سے لکھوا دیا ہے ،اب اس کو ٹھیک کروانا بہت مشکل ہے ،سائل اپنی بات پر مصر ہے کہ نہیں اس کی اصل ولدیت سے ہر جگہ نام لکھوایا جائے، جس کی وجہ سے بہنوئی اب طلاق کی دھمکیوں پہ آ گیا ہے۔اب سائل یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ میں نےچونکہ مناسب طریقے سے اپنی تمام تر کوشش کر لی ہے ،لیکن بہنوئی اب نہیں مان رہا اور سائل کے اصرار کی وجہ سےحالات کے زیادہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے،تو کیا سائل اب اس غلط ولدیت کے اندراج کے گناہ سے بری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس سے متعلقہ دستاویزات میں بجائے اس کے حقیقی والدکے اپنا نام درج کروانا شرعاً جائز نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے بہنوئی کا اپنے نام سے بچے کی ولدیت درج کروانا شرعاً سخت گناہ ہے اور اس پر لازم ہے کہ فوراً بچے کی ولدیت حقیقی والدیعنی سائل کے نام سے درست کروائے، چاہے اس میں کتنی ہی دقت ہو،تاہم اگر سائل کےعلم میں لائے بغیر بہنوئی نےولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوایا ہواور سائل واقعۃً اس غلطی پر راضی نہ ہواور وہ اپنی طرف سے درستگی کی پوری کوشش بھی کر چکا ہو،تو وہ اس گناہ سے بری الذمہ ہوگا اور اس عمل میں رکاوٹ بننے والا فرد ہی اس گناہ کا ذمہ دار اور جوابدہ ہوگا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85411کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات