میری شادی کو 16 سا ل ہوگئے ہیں میرے دو بچے ہیں 15 سال کی بیٹی اور 9 سال کا بیٹا. میں 27 مہینے سے اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہتی ہوں پہلے امی کے ساتھ رہتی تھی اب کرایہ کے گھر پر رہ رہی ہوں کام کر کے بچوں کا خرچہ چلارہی ہوں میرا شوہر نہ ہی بچوں کا خرچہ دیتا ہے نہ ہی طلاق دے رہا ہے اگر میں خلع لیتی ہوں تو کیا میں دوسرا نکاح کرسکتی ہوں ؟ اور اس کیلئے عدت کا کیا ہو گا کیا کورٹ سے خلع لینے کے بعد نکاح کر نا صحیح یا نہیں؟ بہت شکریہ ۔
وا ضح ہو کہ اسلام نےبیوی اور نا بالغ بچوں کے نان و نفقہ کے ذمہ داری شوہر پر عائد کی ہے اس لئے سائلہ کے شوہر کو چاہئیے کہ وہ بیوی اور بچوں کا نان ونفقہ ادا کر نے کی پوری کوشش کرے بصورت دیگر بیوی اپنے شوہر کے خلاف نان نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے تاہم اس کی وجہ سے اس سے علیحدگی اختیار کر نے میں جلد بازی اختیار کر نے کے بجائے خاندان کے معزز اور با اثر افراد کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر نے کی کوشش کر نی چاہیئے چنانچہ تمام تر کوششوں کے با وجود بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری کر نے کے لئے آ مادہ نہ ہو تو اس سے خلع یا طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کر نے میں بھی حرج نہیں پھر اگر شوہر طلاق دینےپر آمادہ نہ ہو اور نہ بیوی بچوں کا نا ن و نفقہ اور دیگر حقوق ادا کر تا ہو تو وہ حکما متعنت شمار ہو گا لہذا ایسی مجبوری میں سائلہ کو نان ونفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کر نے کی بنیاد پر بذریعہ قضاء قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہو گا جس کا طریقہ یہ کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (جج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شر عی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بساکر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ورنہ ہم تفریق کر دیںگے اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کر نے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کے قائم مقام بن کر اسکے بیوی پر طلاق واقع کردے چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی اور عدت کی ابتداء قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیاجائے وہ شوہر کے تعنت ہو نے کی بنیادپر تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کیا جائے خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے ورنہ تنسیخ نکاح معتبر نہ ہو گا جب کہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کر نے کے لئے اگر گواہ بھی نہ ہو ں تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جا تی ہے لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہو تو شوہر کے پاس بار بار تنسیخ نکاح کا نو ٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہو نا حکما نکول عن الیمین (قسم سے انکار ) شمار ہو گا اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعا بھی معتبر ہو گا۔
کما فی ردالمختار تحت قولہ ای لوجود الشقاق وہو الاختلاف والتخاصم وفی القہستانی عن شرح الطحاوی السنۃ اذا وقع بین الزوجین اختلاف ان یجتمع اہلھما لیصلحوا بینھما فان لم یصطلحہا جاز الطلاق والخلع (ج:3 ص : 441 ناشر باب الخلع ناشر سعید )
وفی الھندیۃ اذا تشاق الزوجان وخافا ان لا یقیما حدود اللہ فلاباس بان تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ فاذا فعلا ذلک وقعت تطلیقۃ بائنۃ ولزمہا المال (کتاب الطلاق ج:1 ص:488 ناشر ماجیدیہ)
وفی حیلۃ الناجزۃ واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ ان منعہا نفقۃ الحال فلہا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق والا طلاق علیہ قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم(ص 150 ناشر دار الاشاعت)
وفی البدائع الصنائع واما رکنہ فہو الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض فلاتقع الفرقۃ ولایستحق العوض بدن القبول (ج:3 ص 145 ناشر سعید)