السلام علیکم ورحمة الله وبركاته حضرات مفتيان كرام دریافت طلب مسئله يه كى میں نے ایک گوگل کمپنی کا فون لیا تھا اور کچھ ماہ استعمال کے بعد فروخت کردیا ہوں مسئلہ یہ ہیکہ اب گوگل کمپنی کی طرف سے میرے پاس ای میل آئی ہے کہ گوگل کمپنی اپنے تمام گوگل فون یوزرس کو ایک اسکیم فراہم کر رہی ہے وہ یہ کہ یا تو اپنے فون کی بیٹری بدلوالیں جو کہ خود کمپنی کا بندہ آکر مفت میں جینج کریگا یا آپ بیٹری نہ تبدیل کرواکے اسکی قیمت لینا چاہیں تو کمپنی اسکی قیمت بھی فراہم کر رہی ہے اب مسئلہ یہ ہیکہ کیا وہ قیمت میرے لیۓ جائز ہے ؟جبکہ میں فون فروخت کر چکا ہوں اور میرے پاس گوگل کمپنی کاکوئی فون بھی نہیں ہے ؟
فقط والسلام
واضح ہوکہ جو سہولت یا مالی حق کسی سامان کی ملکیت کے ساتھ مخصوص ہو، وہ سامان فروخت کرنے کے بعد نئے مالک کا حق بن جاتا ہے۔اس لیے جب سائل نے فون فروخت کردیا تو کمپنی کی اسکیم کا فائدہ، چاہے بیٹری کی تبدیلی ہو یا اس کی قیمت، اب نئے مالک کا حق ہے۔ایسی صورت میں سائل کے لیے وہ رقم لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ حقیقتاً ایسی چیز کا لین دین ہے جو اب اس کی ملکیت نہیں رہی، اور یہ بلا حق مال لینا شمار ہوگا، جو کہ ناجائز و حرام ہے۔
اگر سائل نئے مالک کو جانتا ہوتو اخلاقاً یہی بہتر ہےاسے اس حق کی اطلاع دے کرکمپنی کا فائدہ اسی تک پہنچا دے، یہ طرزِ عمل نہ صرف امانت داری اوردیانت کا تقاضا ہے بلکہ عند اللہ باعثِ اجر و ثواب بھی ہوگا۔ان شاءاللہ
کمافی مسند أحمد :عن واثلة بن الأسقع، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " المسلم على المسلم حرام: دمه وعرضه وماله، المسلم أخو المسلم لا يظلمه ولا يخذله، والتقوى هاهنا " وأومأ بيده إلى القلب قال: " وحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم " .» (25/ 400 ط الرسالة)
و فی مشكاة المصابيح : وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى (2/ 889)
وفی المفاتيح في شرح المصابيح : وقال: "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه".
قوله: "ألا لا تظلموا" (الظلم): وضع شيء في غير موضعه، ويدخل في هذا النهي أخذ أموال الناس بالباطل، وإيذاؤهم، وشتمهم، وغيبتهم، وضربهم بغير حق، وغير ذلك من الإضرارات بالمسلمين.» (3/ 483)