گناہ و ناجائز

اس نیت سے کے تمام اہل خاندان کے قبور اکھٹے ہوں، سابقہ قبروں کو کھولنا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
85129
| تاریخ :
2025-08-09
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اس نیت سے کے تمام اہل خاندان کے قبور اکھٹے ہوں، سابقہ قبروں کو کھولنا کیسا ہے؟

سائل عرض کرتا ہے کہ میرے دادا محترم (وفات: 1995ء)فاضل ديوبند ، دادی محترمہ (وفات: 1987ء) اور والدہ محترمہ (وفات: 2017ء) تینوں حضرات/خواتین ایک عوامی قبرستان میں مدفون ہیں۔
اب میرا ارادہ ہے کہ میں ان تینوں کی قبروں سے میت کو نکال کر اپنے ذاتی/خاندانی قبرستان میں دوبارہ دفن کروں، کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ سب اہلِ خاندان ایک ہی قبرستان میں اکٹھے مدفون ہوں۔شرعی طور پر اس بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کہ تدفین کے بعد میت کو قبر سے نکال کر کہیں اور منتقل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی شدید عذر پیش آجائے، مثلاً: کسی غیر کی زمین میں بلا اجازت تدفین کردی گئی ہو، یا غصب شدہ زمین میں مردے کو دفن کیا گیا ہو اور مالک اپنی زمین سے دست بردار نہ ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں میت کو منتقل کرنے کی بامرمجبوری فقہاء کرام نے اجازت دی ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں محض یہ وجہ کہ تمام اہلِ خاندان ایک ہی قبرستان میں اکٹھے دفن ہوں،اس وجہ سے قبرکشائی کرکے مرحومین کوآبائی قبرستان منتقل کرنا شرعاًجائز نہیں،جس سے احترازلازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»: ولا ينبغي إخراج الميت من القبر بعد ما دفن إلا ‌إذا ‌كانت ‌الأرض ‌مغصوبة أو أخذت بشفعة، كذا في فتاوى قاضي خان. إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس.» الخ (1/ 167)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85129کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات