السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!میں آپ کے معزز دارالافتاء سے اپنے نکاح کے بارے میں شرعی رہنمائی لینا چاہتی ہوں، میری شادی کو پانچ سال اور چھ ماہ ہو چکے ہیں، اور اس عرصے میں مجھے شدید ذہنی، جذباتی اور معاشرتی تکالیف کا سامنا رہا ہے،شروع سے ہی میرے شوہر میری عزت اور کردار پر شک کرتے رہے، حالانکہ میں اللہ کے فضل سے ایک نیک، پردہ دار اور باکردار عورت ہوں،وہ مجھے بار بار ذہنی اور زبانی گالیاں دیتے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے اور میرے ساتھ بدتمیزی کرتے تھے،ہم نے اولاد کے لئے علاج بھی کروایا، میری رپورٹس بالکل نارمل تھیں، لیکن ان کے اسپرم کی مقدار کچھ کم تھی، مگر انہوں نے کبھی کوئی دوا لینے سے انکار کیا اور علاج سے بھاگتے رہے،پھر کورونا کے بعد ان کا کاروبار ختم ہو گیا، تب سے وہ کسی قسم کی مالی ذمہ داری نہیں نبھا رہے، سارا دن موبائل پر وقت گزارتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے، ان کے والدین مجھے مسلسل اولاد نہ ہونے کا طعنہ دیتے رہے، اور ہر وقت زبان درازی کرتے تھے،ان سب باتوں کی وجہ سے میں شدید ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی، میں نے کئی بار اپنے والدین سے مدد مانگی مگر وہ یہی کہتے رہے کہ "برداشت کرو، عورت کو سہنا پڑتا ہے"،میری چھوٹی بہن بھی میرے شوہر کے چھوٹے بھائی سے بیاہی ہوئی ہے، اسی وجہ سے بھی مجھے گھر والوں کی طرف سے ہر وقت دباؤ تھا کہ "چپ رہو، کچھ نہ کہو"،پچھلے سال مجھے شک ہوا کہ میرے شوہر نشہ کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ "یہ میرے دوست کا سامان ہے" اور میں نے یقین کر لیا۔ کچھ وقت بعد، ان کے اپنے والد نے مجھے ثبوت دکھا کر بتایا کہ وہ واقعی نشہ کرتے ہیں،جب میں نے ان سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے حسبِ عادت مجھے ہی الزام دیا، بدتمیزی کی اور میری بات سننے سے انکار کر دیا، میں نے آخر کار ان کا گھر چھوڑ دیا، اب مجھے اس حالت میں ایک سال اور تین ماہ گزر چکے ہیں، اور اس پورے عرصے میں نہ وہ آئے، نہ صلح کی کوئی کوشش کی،ایک سال بعد وہ اور ان کے گھر والے آئے، لیکن صلح کے لئے نہیں بلکہ مجھے بدنام کرنے اور الزام دینے کے لئے ، انہوں نے کہا کہ "میں کسی اور مرد میں دلچسپی رکھتی ہوں، اسی لئے خلع مانگ رہی ہوں"، یہ انتہائی شرمناک اور جھوٹا الزام تھا، جس سے میرا دل ٹوٹ گیا،اس کے بعد میرے والدین نے میرا سارا جہیز واپس منگوا لیا، مگر اب بھی وہ خلع لینے میں میرا ساتھ نہیں دے رہے، وہ کہتے ہیں کہ "انتظار کرو، شاید وہ بدل جائے یا نشہ چھوڑ دے"،لیکن یہ انتظار مجھے اندر سے توڑ رہا ہے۔ مجھے روز برے خواب آتے ہیں، جیسے وہ دوبارہ میری زندگی میں آ گیا ہو،اب میرے سسرال والوں نے میری بہن اور اس کے بچوں پر بھی ظلم شروع کر دیا ہے،وہ انہیں ہم سے، اپنے ماں باپ سے ملنے سے روک رہے ہیں، میری بہن سب کچھ برداشت کر رہی ہے صرف میری خاطر، اور خاموشی سے ظلم سہہ رہی ہے،میں مکمل طور پر ذہنی، جذباتی اور روحانی طور پر تھک چکی ہوں،آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مجھے شرعی خلع یا فسخِ نکاح دلانے میں میری مدد فرمائیں، مجھے یہ بتائیں کہ کیا عدالت سے تنسیخ نکاح کا مقدمہ کرکے نکاح ختم کروایا جاسکتا ہے؟اگر مزید معلومات یا ثبوت درکار ہوں تو میں فراہم کرنے کے لئے تیار ہوں۔
اللہ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے جو مظلوم عورتوں کی فریاد سن رہے ہیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی الزام تراشی اور جھوٹ سےکام نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر اور سسرال والوں کااپنے رویہّ اور شوہر کے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنے کے بجائے سائلہ پر شک و بدگمانی کرنا اور سائلہ کےسسراور ساس کا اپنے بیٹے کو سمجھانے اور اس کا علاج کرنے کے بجائے سائلہ ہی کو اولاد نہ ہونے کی بناء پر طعنہ دینا اوراس پر مسلسل زبان درازی کرنا شرعاً درست نہیں، جس کی وجہ سے اس کا شوہر اور ساس و سسر سخت گناہ گار ہورہے ہیں،اس لئے انہیں اللہ کے حضور بصدقِ دل توبہ و استغفار کرکے مؤاخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرنی چاہیئےاور آئندہ کیلئے اپنی رفیقۂ حیات پر بلا وجہ شک و بدگمانی کرنےاوران کے والدین کا اپنی بہو کو اولاد کے نہ ہونے کی بنیاد پر طعنہ دینے اور اس پر زبان درازی کرنے سے مکمل احتراز لازم ہے، جبکہ سائلہ کے شوہرکو چاہیئے کہ وہ اپنی بیوی کا نان و نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرے ، بصورتِ دیگر بیوی اپنے شوہر کے خلاف نان و نفقہ ادانہ کرنے کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کا بھی حق رکھتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے اس سے علیحدگی اختیار کرنے میں جلد بازی اختیار کرنے کے بجائےخاندان کے معزز اور باثر افراد کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ، تاہم اگر کوشش کے باوجود وہ اپنی ذمہ داری پورا کرنے کے لئے آمادہ نہ ہو تو اس سے طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنے میں بھی حرج نہیں، لیکن اگر شوہر نہ طلاق دینے پر آمادہ ہو اور نہ ہی بیوی کا نان و نفقہ اوردیگر حقوق ادا کرنے کیلئے تیار ہو تو ایسی صورت میں شوہر حکماً متعنت شمار ہو گا، لہذا ایسی مجبوری میں سائلہ کو نان و نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہو گا۔
کما قال اللہ تعالی: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱجۡتَنِبُواْ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعۡضَ ٱلظَّنِّ إِثۡمٞۖ إلخ(سورۃ الحجرات:12)۔
وفی صحیح البخاری: عن جعفر بن ربيعة، عن الأعرج قال: قال أبو هريرة: يأثر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تجسسوا، ولا تحسسوا، ولا تباغضوا، وكونوا إخوانا، ولا يخطب الرجل على خطبة أخيه حتى ينكح أو يترك) إلخ(کتاب النکاح، باب: لا يخطب من خطب أخيه حتى ينكح أويدع، ج: 5، ص: 1976، ط: دار ابن کثیر)۔
کما فی الھندیۃ: تجب علی الرجل نفقۃ امرأتہ المسلمۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھا أو لم یدخل کبیرۃ کانت المرأۃ أو صغیرۃ یجامع مثلھا کذا فی فتاوی قاضی خان سواء کانت حرۃ أو مکاتبۃ کذا فی الجواھرۃ النیرۃ إلخ(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، ج: 2، ص: 544، ط: ماجدیۃ )۔
وفی حیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،والا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم إلخ(الروایۃ الثالثۃ والعشرون، ص: 150، ط: دار الاشاعت کراچی)۔