گناہ و ناجائز

مواصلاتی کمپنی کے ملازم کو کام کرنے پر صارفین کی طرف سے کچھ پیسے دینے کا حکم

فتوی نمبر :
8502
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مواصلاتی کمپنی کے ملازم کو کام کرنے پر صارفین کی طرف سے کچھ پیسے دینے کا حکم

میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں ، جب میں مواصلاتی نظام کی انسٹالیشن کے لیے صارفین کے پاس جاتا ہوں ، کام مکمل کرنے کے بعد صارفین میرے مطالبہ کے بغیر کچھ رقم مجھے لینے کی پیش کش کرتے ہیں۔کیا میں یہ رقم لے سکتا ہوں؟ کیا یہ میرے لیے حلال ہے یا حرام ؟ اس لیے کہ کمپنی مجھے اس کام کی تنخواہ دیتی ہے۔
براہ کرم شریعت کی روشنی میں میری راہ نمائی فرمائیں ۔آپ کا مشکور ہوں گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر سائل اپنے کام پر کسی قسم کا مطالبہ نہ صراحۃً اور نہ اشارۃً کرتا ہو، اور کچھ نہ دینے والوں کا کام بھی اسی تن دہی کے ساتھ انجام دیتا ہو جس طرح کچھ دینے والوں کا کرتا ہے، تو اس صورت میں اگر کوئی شخص کام کی تکمیل پر بلا مطالبہ اور لازم سمجھے بغیر اسے کچھ دے دے اور وہ لے کر اسے استعمال میں لے آئے تو اگرچہ اس کی گنجائش ہے اور لینے دینے کو حرام یا رشوت تو نہیں کہا جائےگا۔ مگر یہ دینا جب کام کی وجہ سے ہو رہا ہے تو اس کے لینے سے احتراز ہی چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم» اھ (3/ 614)
في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): و في الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة. (5/ 362) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محبوب الہي حسين عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 8502کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات