محترم،
میری فیملی اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ میں نے انہیں کئی بار نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی ہے، لیکن اب جب بھی میں اس موضوع پر کچھ کہتی ہوں تو بات بحث و تکرار تک پہنچ جاتی ہے۔ ان جھگڑوں سے بچنے کے لیے میں نے اب یہ بات چھیڑنا چھوڑ دی ہے اور صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ میرے گھر والوں کو بائیکاٹ کی حمایت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں گناہ گار ہوں، کیونکہ میرے گھر والے بائیکاٹ نہیں کر رہے؟ میں ایک لڑکی ہوں اور مالی طور پر والدین پر انحصار کرتی ہوں۔ گھر میں جو کچھ چیزیں آتی ہیں وہ اکثر ضروری ہوتی ہیں اور میرے والدین ہی انہیں خریدتے ہیں، ان پر میرا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں کیا میں بھی اس میں جواب دہ ہوں؟
میں اپنی ذمہ داری کیسے ادا کر سکتی ہوں کہ نہ والدین کی بے ادبی ہو اور نہ دین کے معاملے میں کوتاہی؟
تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، اور موجودہ حالات میں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد اور اسرائیل اوراس کے مددگاروں کا معاشی بائیکاٹ ہرمسلمان کی دینی غیرت کا تقاضا ہے۔ تاہم شریعت کا اصول ہے کہ جس کام پر کسی شخص کا اختیار نہ ہو اور وہ براہِ راست اس میں شریک بھی نہ ہو،تو اس پر اس کا گناہ نہیں ہوتا، بشرطیکہ وہ دل سے اس کو ناپسند کرے۔
سائلہ چونکہ مالی طور پر والدین پر انحصار کرتی ہے اور خریداری کے فیصلے میں اس کا کوئی اختیار نہیں، اس لیے وہ اس معاملے میں شرعاً جواب دہ نہیں ہے۔ جب سائلہ نے والدین اورگھرکے دیگر ذمہ دارافراد کو نرمی سے سمجھا کر اپنا دینی فریضہ ادا کر دیا ہے، اب والدین کے احترام کے ساتھ خاموشی اختیار کرنا اور دل میں برائی کو برا سمجھتے ہوئے دعا کرتے رہنا ہی مناسب طرزِ عمل ہے۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ [المائدة: 2]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ يُخۡرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمۡ أَن تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ رَبِّكُمۡ إِن كُنتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَٰدٗا فِي سَبِيلِي وَٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِيۚ تُسِرُّونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعۡلَمُ بِمَآ أَخۡفَيۡتُمۡ وَمَآ أَعۡلَنتُمۡۚ وَمَن يَفۡعَلۡهُ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ[الممتحنة: 1]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ إِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡۚ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَأَصۡبَحُواْ خَٰسِرِينَ [المائدة: 51-53]
و فی صحيح البخاري» :عن عامر قال: سمعته يقول: سمعت النعمان بن بشير يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (ترى المؤمنين: في تراحمهم، وتوادهم، وتعاطفهم، كمثل الجسد، إذا اشتكى عضوا، تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى).»(5/ 2238)