کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے میں بارے کہ نیٹ پر یہ بات شائع تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " رات کو جب کوئی نیند سے اٹھے تو پانی نہ پیے ، کیونکہ مضر ہوتا ہے " ، کیا یہ بات واقعی حدیث ہے؟
۲: ڈاکٹر ذاکر نائیک دیکھنے میں تو دین کا کام کر رہے ہیں ، کتنا بڑا مجمع ان کا بیان سنے کے لئے آتا ہے، اور مجمع کے اندر کتنے کا فر ایمان لے آتے ہیں، تو ہمارے دیو بند کے علماء اس کو کیوں نہیں مانتے ، بلکہ بالکل اس کے خلاف ہیں؟
۱: رات کو نیند سے جاگ کر پانی پینے کے حوالے سے سوال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف منسوب روایت اہلِ سنت کی معتبر کتب حدیث و آثار میں تلاشِ بسیار کے باوجو د نہیں ملی۔
رہی یہ بات کہ رات کو نیند سے اٹھ کر یا نہار منہ پانی پینا چاہیئے یا نہیں؟ تو واضح ہو کہ یہ جائز ناجائز یا حلال و حرام کا شرعی یا مذہبی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک طبی اور طبعی مسئلہ ہے، اس لئے جسے خواہش یا ضرورت ہو اور اسے نقصان نہ کرتا ہو تو وہ پی لیا کرے ،اور جسے چاہت یا ضرورت نہ ہو یا اس کے لئے مضر ہو تو اس کو چاہیئے کہ نہ ہے۔
۲: ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ساتھ علماء دیوبند کا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ،اور نہ ہی ان کی ہر بات اور عمل کو غلط مانا جاتا ہے، بلکہ ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ وہ ایک داعی اور مبلغ ہیں، موصوف اسلام کی حقانیت سے متعلق غیر مسلموں میں جو بات چلاتے ہیں وہ متاثر کن ہوتی ہے، اس لئے تبلیغِ اسلام کے حوالے سے ان کے بیانات سننے میں کوئی حرج نہیں ہے ، مگر وہ چونکہ کسی مستند دینی ادارے سے باقاعدہ فارغ التحصیل نہیں ہیں ، لہذا شریعت کے فروعی احکام جیسے نماز ، طلاق و غیرہ کے باب میں ان کے بتائے ہوئے مسائل پر اس وقت تک عمل نہ کیا جائے جب تک کسی مستند عالمِ دین سے تصدیق کروا کر اس کا درست ہونا معلوم نہ ہو جائے۔
كما في زاد المعاد في هدي خير العباد: فصل في هديه في علاج استطلاق البطن وكان النبي صلى الله عليه وسلم يشربه بالماء على الريق، و في ذلك سر بديع في حفظ الصحة لا يدركه إلا الفطن الفاضل اھ (4/ 32)۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کا ایک فقیر کی مدد کرنے والے واقعہ کی تحقیق
یونیکوڈ من گھڑت احادیث 0