کچھ اکابر علماء کا قول ہے کہ "آدمی کو چاہیے کہ وہ خاموشی سے حج پر جائے اور خاموشی سے واپس آئے"، جیسا کہ یہ بات بہشتی زیور اور دیگر کتابوں میں بھی مذکور ہے۔ لیکن ایک حدیث بھی سننے میں آئی ہے کہ "جب تم میں سے کوئی حج کر کے واپس آئے تو اس سے دعا کرواؤ"۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خاموشی سے جائے اور واپس بھی خاموشی سے آجائے تو لوگوں کو اس کے حج سے واپسی کا علم کیسے ہوگا؟ اور اگر انہیں علم ہی نہ ہو تو وہ اس سے دعا کیسے کروائیں گے؟
کیا یہ دونوں باتیں (علماء کا قول اور حدیث) ایک دوسرے کے متصادم تو نہیں؟ براہِ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمائیں
اکابرعلماء قول کامخاطب حج کرنے والاشخص ہے،جبکہ دعا کے مخاطب دوسرے لوگ ہیں ،لہذاحج پرجانےتواخفاء کااہتمام کرے،اس کے باوجودجس کوحج سے واپسی کاعلم ہوگیاتووہ دعاکی درخواست کرے۔
حدیث مبارکہ میں حاجی کوہدایت نہیں کہ وہ لوگوں کودعاکی درخواست پرآمادہ کرے۔
کماقال اللہ تعالی : فَإِذَا قَضَيۡتُم مَّنَٰسِكَكُمۡ فَٱذۡكُرُواْ ٱللَّهَ كَذِكۡرِكُمۡ ءَابَآءَكُمۡ أَوۡ أَشَدَّ ذِكۡرٗاۗ فَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا وَمَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٖ وَمِنۡهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَآ ءَاتِنَا فِي ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ حَسَنَةٗ وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ نَصِيبٞ مِّمَّا كَسَبُواْۚ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ [البقرة: 200-202]
و فی مسند أحمد» : عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا لقيت الحاج فسلم عليه، وصافحه، ومره أن يستغفر لك، قبل أن يدخل بيته، فإنه مغفور له "»(9/ 272 ط الرسالة)
و فی لطائف المعارف فيما لمواسم العام من الوظائف :عن الحسن قال: إذا خرج الحاج فشيعوهم وزودوهم الدعاء وإذا قفلوا فالقوهم وصافحوهم قبل أن يخالطوا الذنوب فإن البركة في أيديهم۔۔۔۔۔۔۔ وروى أبو معاوية الضرير عن حجاج عن الحكم قال: قال ابن عباس: لو يعلم المقيمون ما للحاج عليهم من الحق لأتوهم حين يقدمون حتى يقيلوا رواحلهم لأنهم وفد الله في جميع الناس ما للمنقطع حيلة سوى التعلق بأذيال الواصلين:(ص65 ط ابن حزم)