گناہ و ناجائز

آپریشن سے بچہ ہونے کی صورت میں تیسرا بچہ پیدا کرنے کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
84836
| تاریخ :
2025-08-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

آپریشن سے بچہ ہونے کی صورت میں تیسرا بچہ پیدا کرنے کا کیا حکم ہے؟

الحمدللہ! میرے دو بیٹے ہیں اور میں اور میری اہلیہ تیسرے بچے کی پلاننگ کر رہے ہیں۔ میرے دونوں بیٹے سیزیرین (C-section) کے ذریعے پیدا ہوئے ہیں۔ میں سیزیرین کے طریقۂ کار کے بارے میں کچھ فکر مند ہوں کیونکہ یہ جان کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے میری اہلیہ نے میڈیکل ٹیسٹ کروائے اور الحمدللہ ڈاکٹر کے مطابق وہ طبی اعتبار سے صحت مند ہیں اور حمل ٹھہرانے کے قابل ہیں۔ لیکن ڈاکٹر نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ ولادت پھر سے سیزیرین کے ذریعے ہی ہوگی۔ میرا سوال یہ ہے کہ شرعی اعتبار سے اس سلسلے میں کیا حکم ہے؟ کیا ہمیں تیسرے بچے کے لیے کوشش کرنی چاہیے یا صرف اس وجہ سے رک جانا چاہیے کہ سیزیرین زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قرآن و سنت میں اولاد کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا گیا ہے۔ شادی کے مقاصد میں سے ایک مقصد اولاد کا حصول بھی ہے۔ لہٰذا اولاد نیک صالح اولادکی خواہش رکھنا ناصرف جائز بلکہ مطلوب اورپسندیدہ ہے۔البتہ اگر ماہر اور دیندار معالج حضرات کا غالب گمان کے ساتھ یہ کہیں کہ بار بار سیزیرین آپ کی اہلیہ کی جان کے لئے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے، تو ایسی صورت میں احتیاط اختیار کرنا اور مزید حمل سے بچاؤکے لیے عارضی مانع حمل تدبیر اختیارکرنے کی گنجائش ہے۔تاہم ،اگر خطرہ صرف احتمال کی حد تک ہے، اور ڈاکٹر کے بقول سائل کی اہلیہ صحت مند اور مزیدولادت کے قابل ہیں ، تو ایسی حالت میں تیسرے بچے کی کوشش کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية :وإذا ‌اعترض ‌الولد ‌في ‌بطن ‌الحامل ولم يجدوا سبيلا لاستخراج الولد إلا بقطع الولد إربا إربا ولو لم يفعلوا ذلك يخاف على الأم قالوا إن كان الولد ميتا في البطن لا بأس به وإن كان حيا لم نر جواز قطع الولد إربا إربا كذا في فتاوى قاضي خان. لا بأس بقطع العضو إن وقعت فيه الآكلة لئلا تسري كذا في السراجية،لا بأس بقطع اليد من الآكلة وشق البطن لما فيه كذا في الملتقط.إذا أراد الرجل أن يقطع إصبعا زائدة أو شيئا آخر قال نصير - رحمه الله تعالى - إن كان الغالب على من قطع مثل ذلك الهلاك فإنه لا يفعل وإن كان الغالب هو النجاة فهو في سعة من ذلك رجل أو امرأة قطع الإصبع الزائدة من ولده قال بعضهم لا يضمن ولهما ولاية المعالجة وهو المختار ولو فعل ذلك غير الأب والأم فهلك كان ضامنا والأب والأم إنما يملكان ذلك إذا كان لا يخاف التعدي والوهن في اليد كذا في الظهيرية.من له سلعة زائدة يريد قطعها إن كان الغالب الهلاك فلا يفعل وإلا فلا بأس به كذا في خزانة المفتين.جراح اشترى جارية رتقاء فله شق الرتق وإن ألمت كذا في القنية.ولا بأس بشق المثانة إذا كانت فيها حصاة وفي الكيسانيات في الجراحات المخوفة والقروح العظيمة والحصاة الواقعة في المثانة ونحوها إن قيل قد ينجو وقد يموت أو ينجو ولا يموت يعالج وإن قيل لا ينجو أصلا لا يداوى بل يترك كذا في الظهيرية اھ (5/ 360)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84836کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات