جدید ہئیر اسٹائلز مثلاً ”فیڈ - fade“ یا ”انڈركٹ undercut“جدید حجام عام طور پر ایسے بال تراشتے ہیں جس میں سر کے اطراف (سائیڈز) بہت مختصر کردیے جاتے ہیں جبکہ اوپر کے بال نمایاں طور پر لمبے چھوڑے جاتے ہیں۔ اس سے سر کے مختلف حصوں میں بالوں کی لمبائی واضح طور پر مختلف ہوجاتی ہے۔ کیا یہ قَزَع (qaza) کی ممانعت کے تحت آتا ہے؟ 1:۔اگر سر کے مختلف حصوں میں بالوں کی لمبائی غیر مساوی ہو لیکن کوئی حصہ مکمل طور پر شیو نہ کیا گیا ہو، تو کیا یہ قزع کی ممانعت میں آتا ہے؟2:۔ کیا طبی یا کھیل کی ضرورت (مثلاً ایلوپیشیا کا پیچ) مختلف حکم رکھتی ہے؟ 3:۔ خواتین کے بال تراشنے یا کاٹنے کا کیا شرعی حکم ہے(اگر layered نہ ہو) ؟
1۔جی ہاں : جس حدیث میں قزع کی ممانعت وارد ہوئی ہے اس کے عموم میں یہ صورت بھی آتی ہے کہ کٹنگ کر کے سر کے ایک حصے سے بال چھوٹے اور دوسرے حصے کے بال بڑے رکھے جائیں، علاوہ ازیں اس میں تشبُّہ بالکفار والفُساق بھی ہے اس لئے بھی اس قسم کے بال رکھنا ممنوع ہے۔
2۔ کھیل کی ضرورت تو شرعاً کوئی عذر نہیں البتہ ایلوپیشیاجو بالوں کی بیماری ہوتی ہے یا دیگر کسی عذر مثلاًحجامہ وغیرہ کی وجہ سے اگر سر کے بال کہیں سے منڈوالیے جائیں جس کی وجہ سے سر کے بقیہ بال بڑے رہ جائیں تو شرعاً اس میں کوئی قباحت اور ممانعت نہیں۔
3۔ اگر لئیر کٹنگ نہ بھی ہو تب بھی عورت کے لئے بال کاٹنا شرعاً ممنوع ہے۔ البتہ اگر بالوں میں کوئی بیماری وغیرہ آ جائے تو ایسی صورت میں اس حد تک بال کاٹنے کی گنجائش ہے کہ جس میں مردوں سے مشابہت نہ ہو پائے۔
قال اللہ تعالی:يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ۔(البقرة:104)
فی التفسير لابن كثير:نهى الله تعالى المؤمنين أن يتشبهوا بالكافرين في مقالهم وفعالهم (الی قولہ)وروى أبو داود، عن عثمان بن أبي شيبة، عن أبي النضر هاشم بن القاسم به"من تشبه بقوم فهو منهم"ففيه دلالة على النهي الشديد والتهديد والوعيد، على التشبه بالكفار في أقوالهم وأفعالهم، ولباسهم وأعيادهم، وعباداتهم وغير ذلك من أمورهم التي لم تشرع لنا ولا نقرر عليها.(سورة البقرة،الأية:104،ج:1،ص:373)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح ’’من تشبہ بقوم‘‘ :أی من شبہ نفسہ بالکفار مثلاً فی اللباس وغیرہ، أو بالفساق أو الفجار أو بأہل التصوف والصلحاء الأبرار۔‘‘ (فہومنہم): أی فی الإثم والخیر، قال الطیبی:ہذا عام فی الخلق والخلق والشعار، ولما کان الشعار أظہر فی التشبہ ذکر فی ہذا الباب۔ قلت : بل الشعار ہو المراد بالتشبہ لا غیر، فإن الخلق الصوری لا یتصور فیہ التشبہ، والخلق المعنوی لا یقال فیہ التشبہ، بل ہو التخلق، ہٰذا الخ ( الفصل الثانی ج 8ص155 ط: رشیدیہ)۔
و فی الدر المختار: قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت زاد في البزازية وإن بإذن الزوج لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته، والمعنى المؤثر التشبه بالرجال. الخ وفی الردتحت:(قوله لا طاعة لمخلوق إلخ) رواه أحمد والحاكم عن عمران بن حصين اهـ جراحي (قوله والمعنى المؤثر) أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال فإنه لا يجوز كالتشبه بالنساء حتى قال في المجتبى رامزا: يكره غزل الرجل على هيئة غزل النساء.(کتاب الحظروالاباحۃ ج6 ص407 ط: سعید)۔
و فی تکملة فتح الملهم :(قوله: قال یحلق بعض رأس الصبي) الخ: قال النووی رحمه الله تعالیٰ: "وهذا الذى فسره به نافع أو عبيد الله هو الأصح، وهو أن القزع حلق بعض الرأس مطلقا، ومنهم من قال هو حلق مواضع متفرقة منه، والصحيح الأول؛ لأنه تفسير الراوى، وهو غير مخالف للظاهر، فوجب العمل به." وأما ما ذکر في صحیح البخاري من قوله "إذا حلق الصبي وترك ههنا شعرة، وههنا شعرة، فالظاهر أنه تمثیل بفرد من أفراد القزع، ولیس تعریفًا له الخ (ج:4 ص:161 ط: دار العلوم کراتشی)۔
و فی شرح النووي على صحیح مسلم :أجمع العلماء على كراهة القزع اذا كان فى مواضع متفرقة، إلا أن يكون لمداواة ونحوها، وهى كراهة تنزيه، وكرهه مالك فى الجارية والغلام مطلقا، وقال بعض أصحابه لابأس به فى القصة و القفا للغلام، و مذهبنا كراهته مطلقا للرجل والمرأة لعموم الحديث.قال العلماء: والحكمة فى كراهته أنه تشويه للخلق، وقيل: لأنه أذى الشر والشطارة، وقيل: لأنه زى اليهود، وقد جاء هذا فى رواية لأبى داود، والله أعلم.(ج:14ص:101 ط: دار احیاء التراث العربی۔بیروت)۔
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: الفصل الثاني 2653 - (عن علي، وعائشة رضي الله عنهما قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تحلق المرأة رأسها» ) : أي: في التحلل، أو مطلقا إلا لضرورة، فإن حلقها مثلۃ كحلق اللحية للرجل (رواه الترمذي) : وكذا النسائي.(باب الحلق ج:5 ص:1832 ط: دار الفکر بیروت)۔