السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میری گزارش ہے کہ براہِ کرم درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی فرمائیں: آج کل واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ذرائع پر لوگ اپنی خوشی، غمی کے تأثرات یا کسی بھی واقعہ پر اظہارِ رائے کے لیے بعض اوقات کسی نامحرم مرد یا عورت کی تصویر یا ویڈیو اپنے واٹس ایپ اسٹیٹس یا پروفائل پر لگا دیتے ہیں،مثلاً:کسی حادثہ، ظلم یا شہادت کی خبر کے اظہار میں متاثرہ مرد یا عورت کی تصویر یا ویڈیو لگانا،کسی دینی، سماجی یا قومی شخصیت (چاہے مرد ہو یا عورت) کی وفات یا کامیابی پر تصویر لگانا،کسی خوشی یا غمی کے موقع پر کسی مرد یا عورت کی تصویر یا ویڈیو اپنے اسٹیٹس یا پروفائل میں شامل کرنا،سوال یہ ہے کہ کیا واٹس ایپ اسٹیٹس یا دیگر سوشل میڈیا ذرائع پر کسی نامحرم مرد یا عورت کی تصویر یا ویڈیو لگانا شرعاً جائز ہے؟جبکہ نتیجتاً کئی نامحرم مردوں کی نظر عورت کی تصویر پر یا کئی عورتوں کی نظر کسی نامحرم مرد کی تصویر پر پڑ جاتی ہے۔ اگر کسی مرد نے عورت کی تصویر یا کسی عورت نے مرد کی تصویر لگائی، اور دیگر نامحرم حضرات کی نظر اس پر پڑتی ہے تو اس پر شرعی حکم کیا ہوگا؟براہِ کرم اس مسئلے میں نظروں کی حفاظت اور فتنہ سے بچاؤ کے شرعی اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن و سنت، اور فقہی اصولوں کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔
واضح ہوکہ کسی نامحرم عورت کی تصویر یا ویڈیو کو اس انداز سے نشر کرنا کہ بے شمار نامحرم مردوں کی نظر اس پر پڑے، یا کسی نامحرم مرد کی تصویر اس طرح عام کرنا کہ عورتوں کی نظریں اس پر جائیں، یہ عمل فی نفسہٖ فتنہ اور نظرِ بد کے اسباب میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائزاورحرام ہے۔ خصوصاً جبکہ موجودہ دور میں تصاویر کا غلط استعمال عام اور نگاہوں کی بے احتیاطی غالب ہے۔ اس لیے بلا ضرورت ایسی تصاویر یا ویڈیوز کواسٹیٹس یا پروفائل پر لگانا موجبِ گناہ ہے،جس سے بچناچاہیے۔البتہ اگر کسی دینی یا سماجی مصلحت کے تحت کسی معروف شخصیت کی سادہ اور باوقار تصویر خبر یا تعارف کے طور پر معتبر ذرائع میں شائع ہو، اور اس میں فتنہ کا پہلو غالب نہ ہو، تو اہلِ علم نے ضرورت و مصلحت کے درجے میں اس کی گنجائش ذکر کی ہے؛ لیکن محض جذباتی اظہار، شہرت یا غیر ضروری تشہیر کے لیے تصاویر نشر کرنا درست نہیں۔جس سے احترازچاہیے۔
قال اللہ تعالی: وقل للمؤْمناتِ يغْضضْن منْ أبصارهنّ ويحْفظْن فروجھنّ ولا يبْدين زينتھنّ إلاّ ما ظھر منْھا ولْيضْربْن بخمرهنّ على جيوبھن (سورۃ النور، آیت نمبر:31)۔
وفی الجامع لأحکام القرآن: فأمر الله سبحانه وتعالى المؤمنين والمؤمنات بغض الأبصار عما لا يحل، فلا يحل للرجل أن ينظر إلى المرأة ولا المرأة إلى الرجل، فإن علاقتھا به كعلاقته بھا، وقصدها منه إلخ(سورۃ النور، آیت:31، ج:12، ص:227، ط:دار الكتب المصرية – القاهرة)۔
وفی تبیین الحقائق: قال رحمہ اللہ ( لا ینظر إلی غیر وجہ الحرۃ و کفیھا ) وھذا الکلام فیہ خلل، لأنہ یؤدی إلی أنہ لا ینظر إلی شیئ من الأشیاء إلا إلی وجہ الحرۃ و کفیھا فیکون تحریضا علی النظر إلی ھذین العضوین و إلی ترک النظر إلی کل شیئ سواھما (إلی قولہ ) و ما عدا ما استثنی من الأعضاء لا یجوز لہ أن ینظر إلیہ لقولہ علیہ الصلاۃ و السلام: ( من نظر إلی محاسن إمرأۃ أجنبیۃ عن شھوۃ صب فی عینہ الآنک یوم القیامۃ ) قالوا: و لا بأس بالتأمل فی جسدھا و علیھا ثیاب ما لم یکن ثوب یبین حجمھا فیہ فلا ینظر إلیھا حینئذ ( لقولہ علیہ الصلاۃ و السلام: من تأمل خلق امرأۃ وراء ثیابھا حتی تبین لہ حجم عظامھا لم یرح رائحۃ الجنۃ ) و لأنہ متی لم تصف ثیابھا ما تحتھا من جسدھا یکون ناظرا إلی ثیابھا و قامتھا دون أعضائھا فصار کما إذا نظر إلی خیمۃ فیھا امرأۃ، ومتی کان یصف یکون ناظرا إلی أعضاءھا إلخ( کتاب الکراھیۃ، فصل فی النظر والمس، ج 7، ص 38۔39، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الھندیۃ: فنقول نظر المرأة إلى الرجل الأجنبي كنظر الرجل إلى الرجل تنظر إلى جميع جسده إلا ما بين سرته حتى يجاوز ركبته، وما ذكرنا من الجواب فيما إذا كانت المرأة تعلم قطعا ويقينا إنھا لو نظرت إلى بعض ما ذكرنا من الرجل لا يقع في قلبھا شھوة، وأما إذا علمت أنه تقع في قلبھا شھوة أو شكت ومعنى الشك استواء الظنين فأحب إلي أن تغض بصرها منه، هكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل،فقد ذكر الاستحسان فيما إذا كان الناظر إلى الرجل الأجنبي هو المرأة وفيما إذا كان الناظر إلى المرأة الأجنبية هو الرجل قال: فليجتنب بجهده، وهو دليل الحرمة، وهو الصحيح في الفصلين جميعا إلخ(كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له، ج:5، ص:327، ط: ماجدیہ)۔