کیا شریعت میں ایک سرمایہ کار (عمیر) کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی شخص (ابوزر) کو گائے خریدنے کے لیے رقم دے، جہاں سرمایہ کار دودھ کے منافع میں کوئی حصہ نہیں لے گا، بلکہ صرف گائے اور بچھڑے کی فروخت کے منافع میں حصہ لے گا؟
اگر شراکت داری کے دوران گائے بچھڑے کو جنم دے، تو کیا دونوں فریق (سرمایہ کار اور دیکھ بھال کرنے والا) بچھڑے کی ملکیت میں حصہ دار بن سکتے ہیں؟
کیا یہ جائز ہے کہ دودھ کی تمام آمدنی کا مالک صرف دیکھ بھال کرنے والا (ابوزر) ہو، جبکہ سرمایہ کار (عمیر) صرف اس وقت منافع کا انتظار کرے جب گائے فروخت ہو؟
اگر نقصان ہو جائے (مثلاً گائے مر جائے)، اور سرمایہ کار اپنی رقم کھو دے، جبکہ دیکھ بھال کرنے والا صرف اپنی محنت کھوئے، تو کیا اسلام میں نقصان کی یہ تقسیم درست ہے؟
کیا ایسی شراکت داری کھلی مدت کے لیے ہو سکتی ہے (ایک سال جیسا کوئی وقت مقرر نہ ہو)، اور اس کا اختتام صرف اس وقت ہو جب مارکیٹ کے حالات کے مطابق گائے فروخت کی جائے؟
کیا ایسی شراکت داریوں میں تحریری معاہدہ ضروری ہے، یا شریعت کے مطابق زبانی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے؟
اگر گائے کی مارکیٹ قیمت میں نمایاں اضافہ ہو جائے، اور دونوں فریق فروخت میں تاخیر پر راضی ہوں، تو کیا شراکت داری میں مسلسل توسیع کرنا جائز ہے؟
سوال میں ذکر کردہ سرمایہ کاری کا طریقہ کار شرعاً جائز اور درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔ اگر کسی نے مذکورہ طریقہ کار کے مطابق سرمایہ کاری کا معاہدہ کر لیا ہو تو ایسے معاہدے کو فسخ کرنا لازم ہے۔ البتہ اس کا متبادل جائز اور درست طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنے جانور کا نصف حصہ پالنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے، پھر اگر سائل چاہے تو اس سے قیمت بھی وصول نہ کرے۔ ایسا کرنے سے سائل اور جانور پالنے والے کے درمیان جانور مشترک ہو جائے گا، اور پھر جانور کی دیکھ بھال اور اس پر آنے والے اخراجات بھی مشترکہ ہوں گے۔ اس کے بعد اگر پیشگی شرط لگائے بغیر، جانور پالنے والا دوسرے شریک کی رضامندی سے دودھ استعمال کرتا رہے اور جانور کی دیکھ بھال کرے، جبکہ جانور فروخت کرنے کی صورت میں اصل رقم اور حاصل شدہ منافع آدھوں آدھ تقسیم ہو، تو یہ درست ہے۔دوسری جائز صورت یہ بھی ہے کہ سائل جانور پالنے والے کو اس کی ذمہ داریوں کے عوض نفع میں شریک کرنے کے بجائے ماہانہ متعین تنخواہ دیا کرے، چنانچہ اس طرح کرنے سے یہ معاملہ شرعاً جائز اور درست ہوگا، مگر اس دوسری صورت میں جانور پالنے والا صرف طے شدہ تنخواہ لینے کا حقدار ہوگا۔
کما فی الفتاوى العالمكيرية: وعلى هذا إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين فما حدث فهو لصاحب البقرة ولذلك الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فيما قام عليها وعلى هذا إذا دفع دجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفين، والحيلة في ذلك أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل ونصف الدجاجة ونصف بذر الفليق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما فيكون الحادث منها على الشركة، كذا في الظهيرية.اھ ( الباب الخامس في الشركة الفاسدة،ج:335،ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)
و فی المحیط البرہانی :إذا دفع إلى آخر بقرة بالعلف؛ ليكون الحادث بينهما نصفان، فالحادث كله لصاحب البقرة وعليه أجر مثل عمل المدفوع إليه، وثمن العلف وهذا لأن المدفوع إليه غير متبرع فيما صنع؛ لأنه إنما فعل ذلك رجاء أن يسلم له نصف الحادث، ولا يسلم له نصف الحادث منها لفساد العقد ليكون البدل مجهولا.اھ(الفصل الثاني والثلاثون: يقرب إلى المسائل التي هي في معنى قفيز الطحان،ج:7،ص:625،ط:دار الكتب العلمية)
و فی فتح القدیر:«ومثله إذا دفع بقرة إلى آخر يعلفها ليكون الحادث بينها بالنصف فالحادث كله لصاحب البقرة وله على صاحب البقرة ثمن العلف وأجر مثله، وعلى هذا إذا دفع الدجاج ليكون البيض بالنصف»اھ( باب البيع الفاسد،ج:6،ص:421،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)