کیا فرماتے ہیں علماء کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کے گھر میں ایک سیب کا درخت ہو ،اور اس کی شاخیں پڑوسی کے گھر میں جارہی ہو ، یعنی پڑوسی کے صحن میں ہوں ،تو کیا وہ اس سے پھل بغیر اجازت کے کھا سکتا ہے ؟ کیونکہ میرے گھر میں سیب کا درخت ہے، جس کی شاخیں پڑوسی کے گھر میں ہیں ، وہ اس سے پھل کھالیتا ہے، اس کا مدلّل جواب عنایت فرما ممنون و مشکور فرمائیں۔
سائل کے گھر میں سیب کا جو درخت لگا ہوا ہے ، اس کا پھل بھی سائل کی ملکیت ہے، پڑوسی کے گھر میں درخت کے پھل کی شاخیں جانے کی وجہ سے وہ ان شاخوں پر لگے پھلوں کا مالک نہیں بنتا، اس لئے مذکور پڑوسیوں کے لئے سائل کی اجازت کے بغیر ان شاخوں سے پھلوں کو توڑ کر کھانا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ وہ ان شاخوں کے کاٹنے کا سائل سے مطالبہ کر سکتا ہے۔
كما في شرح المجلة: لأي أحد كان أن يقطف فاكهة الأشجار التي في الجبال المباحة المادة (لأي أحد كان أن يقطف فاكهة الأشجار التي في الجبال المباحة و في الأودية والمراعي التي لا صاحب لها أن ذلك مباح ولكل الانتفاع بالمباح وليس لأحد منع الآخر من أخذ وإحراز الشيء المباح (الهندية والخانية ) (۴/ ۱۹۰)۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا غرس شجرا في طريق العامة فالحكم أن الشجر للغارس وإذا غرس شجرا على شط نهر العامة أو على شط حوض القرية فهو للغارس كذا في الظهيرية ولو قطعها فنبتت من عروقها أشجار فهي للغارس كذا في فتح القديراھ(2/ 474)۔