میرے شوہر نےمجھ سے پہلے طلاق واٹس ایپ میں میسج پر 3 اپریل 2025 کو دی، اور پھر دوسری طلاق 26 مئی 2025 کو واٹس ایپ میسج پر ہی دی ،لیکن اس نے طلاق کے پیپر مجھے 7 جولائی 2025 کو دیے وہ بھی میں نے یونین کونسل میں جاکر بتایا تب اس نے پیپر مجھے بھیجے میرے گھر ،کیونکہ میں ایک سال سے اپریل 2024 سے اپنی امی کے گھر تھی، پیپر میں لکھا ہے میں طلاق دے رہا ہوں، عدت کے بعد یہ آزاد اب میرا یہ سوال ہے کے میری عدت 3 اپریل سے بنتی ہے یا 7 جولائی سے شروع ہوتی ہے؟
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ میں جوب کرتی ہوں ، میرا کوئی بھائی نہیں ہے، ہم 4 بہنیں ہیں اس کے بارے میں بتا دیجئے ۔
واضح ہوکہ عدت کی ابتداء طلاق کے فوراً بعد ہی ہوجاتی ہے، بشرطیکہ طلاق رجعی ہونے کی صورت میں شوہر عدت کے دوران رجوع نہ کرلے ، چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہرنے اسے تحریری طور پر پہلی طلاق 3 اپریل کو دی ہو ، اور اس طلاق کے بعد انہوں نے رجوع نہ کیا ہو، اگرچہ کاغذات اسے بعد میں حوالہ کیے ہوں، تب بھی سائلہ کی عدت 3 اپریل ہی سے شمار ہوگی ، چنانچہ اس کے بعد سے ماہوار ی آنے کی صورت میں تیسری ماہواری مکمل ہونے پر سائلہ کی عدت شرعاً مکمل ہوجائیگی، جس کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
جبکہ دوسرے سوال سے سائلہ کی مراد اگر اس سے عدت کے دوران ملازمت کا حکم معلوم کرنا ہے ،تو دوران عدت چونکہ بغیر شرعی عذر اور مجبوری کے گھر سے نکلنا جائز نہیں، اور طلاق کے بعد عورت کی عدت کا نان و نفقہ شرعاً شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے ، لہٰذا اگر شوہر کی طرف سے سائلہ کے نان ونفقہ کا انتظام ہو، تو عدت مکمل نہ ہونے کی صورت میں سائلہ کیلئے دورانِ عدت ملازمت کیلئے گھر سے نکلنا جائز نہ ہوگا، لیکن اگر شوہر کے گھر عدت نہ گزارنے کی وجہ سے ان کی طرف سے سائلہ کے نان ونفقہ کا انتظام نہ ہو ،اور نہ ہی سائلہ کی کفالت کرنے والا کوئی اورشخص موجود ہو، تو ایسی صورت میں عدت مکمل ہونے تک سائلہ کیلئے دن کے اوقات میں ملازمت کیلئے گھر سے نکلنے کی گنجائش ہوگی ۔
کمافی الھندیۃ: إبتداء العدۃ فی الطلاق عقیب الطلاق و فی الوفاۃ عقیب الوفاۃ فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاۃ حتی مضت مدۃ العدۃ فقد انقضت عدتھا کذا فی الھدایۃ الخ۔ ( الباب الثالث عشر فی العدۃ، ج:1، ص: 532،ط: ماجدیہ)۔
وفی البحر: ( قولہ و تعتدان فی بیت وجبت فیہ الا ان تخرج او ینھدم ) ای معتدۃ الطلاق و الموت تعتدان فی المنزل المضاف الیھما بالسکنی وقت الطلاق و الموت و لا یخرجان منہ الا لضرورۃ الخ۔ ( فصل فی الحداد، ج: 4، ص: 154، ط: ماجدیہ)۔
و فیہ الدر: و إصطلاحاً ( تربص یلزم المرأۃ أو ولی الصغیرۃ ( عند زوال النکاح) فلا عدۃ لزنا أو شبھۃ ) کنکاحٍ فاسد و مزفوفۃ لغیر زوجھا الخ۔ ( باب العدۃ ج: 3، ص: 502، ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: علی المبتوتۃ و لامتوفی عنھا زوجھا اذا کانت بالغۃ مسلمۃ الحداد فی عدتھا کذا فی الکافی الخ۔ (الباب الرابع عشر فی الحداد، ج:1، ص: 533، ط: سعید)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0