کمپنی کا ملازم کی تنخواہ سے پیشگی اطلاع دیے بغیر چھوڑنے کی صورت میں کٹوتی کرنا،حضرات مفتیانِ کرام!مختلف کمپنیوں (کارپوریٹ اداروں) میں مختلف ملازمین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جاتا ہے کہ پیشگی اطلاع کے بغیر اگر کوئی ملازمت ختم کرے گا ،تو اس کو آخری مہینے کی تنخواہ نہیں ملے گی ، اسی طرح اگر کمپنی کے ذمے کوئی بونس وغیرہ ہو، تو وہ بھی کمپنی ضبط کر لے گی اور ملازمت کے عہد میں یہ چیزیں شامل ہوتی ہیں اور تمام ملازمین اس پر دستخط بھی کرتے ہیں،(1) ملازم کا اس معاہدے کی رو سے پیشگی اطلاع دیے بغیر ملازمت چھوڑنا کیسا ہے؟(2) مذکورہ صورت میں اپنی تنخواہ کے مطالبے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟(3) کسی کمپنی ادارے کا ایسا کرنا درست ہے؟ تنخواہ کے علاوہ مزید بونس وغیرہ کا کیا حکم ہے؟(4) اگر کمپنی کا نقصان ہو رہا ہو ،تو کس حد تک تلافی کی گنجائش ہے؟(5) کمپنی اگر معاہدہ نہ کریں، تو اسے یہ خدشہ ہوتا ہے کہ ملازم بغیر اطلاع کے چھوڑ دے تو اس کا نقصان ہو سکتا ہے؟ اس کی وجہ سے کاموں میں تاخیر ہو سکتی ہے، اگر اس طرح درست نہیں ہے، تو اس کی متبادل کیا صورت ممکن ہے ؟براہِ مہربانی تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
کسی ادارے یا کمپنی کا ملازم کو ملازمت چھوڑنے کی صورت میں پیشگی اطلاع دینے کا پابند بنانا شرعاًدرست ہے، اور ملازم پر حسبِ معاہدہ اس ضابطہ پر عمل کرنا بھی شرعاً لازم ہوگا ،تا ہم اگر ملازم خلافِ ضابطہ بلا کسی عذر کے اطلاع دیے بغیر کا م چھوڑ کر چلاجائے ،تو ایسا کرنے سے اسے معاہدہ کی پاسداری نہ کرنے کا گناہ تو ہوگا ،لیکن محض اس وجہ سے ادارے کا ملازم کی تنخواہ سے رقم ضبط کرنا " تعزیر بالمال "(مالی جرمانہ ) ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔البتہ اگر اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی وجہ سے ادارےکا کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو، تو اس نقصان کے بقدر ملازم سے تلافی کروائی جاسکتی ہے۔اسی طرح کمپنی کی طرف سے ملنے والا بونس چونکہ حسن کارکردگی کا انعام ہوتا ہے، جو ہدیہ کے حکم میں ہے، اس لئے بیشگی اطلاع دئیے بغیر جانے والے ملازم کا بونس روکنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی اعلاء السنن :التعزیر بالمال جائز عند أبی یوسف، وعندہما وعند الأئمۃ الثلاثۃ لایجوز، وترکہ الجمہور للقرآن والسنۃ : وأما القرآن فقولہ تعالی :{فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم} ۔ وأما السنۃ فإنہ علیہ السلام قضی بالضمان بالمثل ولأنہ خبر یدفعہ الأصول فقد أجمع العلماء علی أن من استہلک شیئاً لم یغرم إلا مثلہ أو قیمتہ اھ(باب التعزیر بالمال،ج 11،ص 733،ط: بیروت)۔
و فی الھندیۃ : والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر الخ ( کتاب الاجارۃ، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص المشترك وهو مشتمل على فصلين،ج 4،ص 500،ط: ماجدیۃ)۔
و فی احکام القرآن للجصاص : تحت ھذہ الآیۃ: يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود،و اقتضى أيضا الوفاء بعقود البياعات والإجارات والنكاحات ، وجميع ما يتناوله اسم العقود ، فمتى اختلفنا في جواز عقد أو فساده وفي صحة نذر ولزومه صح الاحتجاج بقوله تعالى : { أوفوا بالعقود } لاقتضاء عمومه جواز جميعها من الكفالات والإجارات والبيوع وغيرها ( الی قولہ ) وقوله صلى الله عليه وسلم : { والمسلمون عند شروطهم } في معنى قول الله تعالى : { أوفوا بالعقود } وهو عموم في إيجاب الوفاء بجميع ما يشرط الإنسان على نفسه ما لم تقم دلالة تخصصه الخ ( سورۃ المائدۃ،ج 5،ص 185،ط: الفاروقية)۔