گناہ و ناجائز

غیر قانونی طور پر پانی کا کنیکشن لگانا

فتوی نمبر :
83894
| تاریخ :
2025-07-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر قانونی طور پر پانی کا کنیکشن لگانا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بصد ادب گزارش ہے کہ ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ کی وجہ سے ہم علاقہ مکین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ ہر آئے دن سیاسی، قانونی یا انتظامی پیچیدگیوں کے باعث ہمارے علاقے کا ماحول بے چینی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
جیسا کہ آپ کے علم میں ہوگا، اس وقت ہمارے شہر کراچی میں میٹھے پانی کا سنگین بحران درپیش ہے، جس کی وجہ سے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے شہری سخت اذیت میں ہیں۔
تاہم اس مسئلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ افراد غلط راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
شرعی اور قانونی طریقہ یہ ہے کہ پانی کا کنکشن برانچ لائن سے حاصل کیا جائے، تاکہ تقسیم منصفانہ اور منظم رہے۔ مگر بدقسمتی سے کچھ افراد ذاتی فائدے کی غرض سے براہِ راست مین لائن سے غیرقانونی کنکشن حاصل کر رہے ہیں، جس سے آگے والے گھروں میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے — اور کئی گھروں تک تو پانی پہنچ ہی نہیں پاتا۔
مزید برآں، اس عمل میں مبینہ طور پر رشوت کا عنصر بھی شامل ہے۔
ہم آپ سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس مسئلے پر قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ حکومتی نظام کے تحت فراہم کیے گئے پانی کی تقسیم، عدل و انصاف، منظم ترتیب اور قانونی طریقہ کار کے تحت ہونا ضروری ہے، تاکہ تمام افراد کو اُن کا حق برابر ملے اور کسی پر ظلم وزیادتی نہ ہواگر کوئی شخص فراہمی آب کےقانونی طریقہ کار "برانچ لائن" کو چھوڑ کر رشوت کے ذریعےبراہِ راست مین لائن سے غیرقانونی کنکشن حاصل کرتاہوتوشرعاً اس کایہ عمل غصب، ظلم اور حقوق العباد کی پامالی شمار ہوگا۔ کیونکہ عوامی یا حکومتی وسائل کوغیرقانونی طریقہ کاریامتعلقہ ذمہ داران کورشوت دیکر ذاتی استعمال میں لانا جس طرح قانوناجرم ہے اسی طرح شرعا بھی ناجائز ہے،اس لیے کہ حکومت وقت کی طرف سے انتظامی سہولت اور عوامی مصلحت کی خاطروضع کردہ ایسی پالیسی یاقانون سازی جوقرآن وسنت کےکسی حکمِ صریح سے متصادم نہ ہواس پرعمل شرعاً واجب ہوتاہے ۔ لہذا ہر شخص پرلازم ہے کہ اپنے حصے کا پانی قانونی اور منصفانہ طریقے سے حاصل کرے۔اوراگربالفرض اجتماعی حقوق میں کسی کی حق تلفی بھی ہورہی تووہ اس کے ازالے میں دوسروں کی حق تلفی پرمبنی کوئی صورت اختیارنہیں کرسکتا۔چنانچہ اگر کسی کو پانی کم مل رہا ہو، تو اس کی شکایت متعلقہ ادارے تک پہنچانا اس كا شرعی اور قانونی حق ہے ،اورمتعلقہ ادارے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شہری کی جائزشکایت کاازالہ کرتے ہوئے اس کاحق ِواجب اس تک پہنچانے میں اس کی مددکرے ،ورنہ بلاوجہ ٹال مٹول کرنے اوراپنےذمہ داری ادانہ کرنے پرعنداللہ وہ بھی قابل مواخذہ قرارپائیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ [النساء: 59]
و في سنن أبي داود : عن عبد الله بن عمرو قال: ‌لعن ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي. (3/ 326 ط مع عون المعبود)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : ‌لأن ‌طاعة ‌الإمام ‌فيما ‌ليس ‌بمعصية ‌فرض (7/ 140)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83894کی تصدیق کریں
0     53
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات