کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (۱) کیا بچے کے عضو بن جانے کے بعد جبکہ ابھی ایک سو بیس دن نہ گذرے ہوں اسقاط کرانے کی صورت میں دیت لازم آئے گی؟ جیسا کہ منتخبات نظام الفتاوی میں مذکور ہے۔ (۲) ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ : کیا ورثا باہمی رضا مندی سے خلاف شرع تقسیم کر سکتے ہیں؟ بینوا توجروا
چار ماہ سے پہلے پہلے اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت سے اسقاط حمل کرے تو اس کی وجہ سے دیت وغیرہ کچھ لازم نہیں ہوتی اور اگر بچے کے اعضاء بن گئے ہوں اور شوہر کی اجازت کے بغیر ایسا کر لیا تو اس کی عاقلہ پر غرۃ یعنی دیت کا بیسواں حصہ جو پانچ سو درہم ہے، دینا لازم ہوگا ۔(۲) اگر تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اپنی مرضی سے بلا جبر و اکراہ میراث میں سے کم و بیش لینا چاہیں تو شرعا بھی یہ تقسیم جائز اور درست ہے ۔
ففي البحر الرائق؛ قال رحمه الله ( وإن شربت دواء لتطرحه أو عالجت فرجها حتى أسقطته ضمن عاقلتها الغرة إن فعلت بلا إذن ) لأنها ألقته متعدية فيجب عليها ضمانه وتتحمل عنها العاقلة لما بينا ولا ترث هي من الغرة شيئا لأنها قاتلته بغير حق والقاتل لا يرث بخلاف ما إذا فعلت ذلك بإذن الزوج حيث لا تجب الغرة لعدم التعدي اھ (8/ 391)
و في الهداية شرح البداية: قال وإذا كانت الشركة بين ورثة فأخرجوا أحدهم منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض جاز قليلا كان ما أعطوه إياه أو كثيرا اھ (3/ 200) والله تعالى أعلم بالصواب