گناہ و ناجائز

کمپنی آفیسر کا ٹھیکیدار کی طے شدہ اجرت سے جبراً کٹوتی کرنا

فتوی نمبر :
83808
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی آفیسر کا ٹھیکیدار کی طے شدہ اجرت سے جبراً کٹوتی کرنا

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں فیکٹری میں ٹھیکیداری کرتا ہوں، میرے علاوہ فیکٹری میں چار اور ٹھیکیدار ہیں، فیکٹری میں شرٹ وغیرہ بنتی ہیں، اور آفیسر نے میرے ساتھ فی پیس چار روپے پچاس پیسے اجرت طے کر رکھی ہے، جو وہ سیٹھ سے وصول کر کے مجھے دیتا ہے، اس میں اس نے سیٹھ کے ساتھ معاملہ طے کر رکھا ہے۔ میرے علم میں نہیں، البتہ میرے لئے مقرّر کردہ فی پیس 4.50 روپے میں سے فی پیس 25 پیسے اپنے لئے کٹوتی کرتا ہے، جو اگر نہ کروائی جائے، تو مسائل کھڑے کر سکتا ہے ،آیا کٹوتی رشوت کے زمرے میں آ کر مجھ پر اس کا کچھ وبال تو نہیں ؟
دوسرا یہ کہ مذکور آفیسر، سیٹھ سے ہم پانچوں ٹھیکیداروں کا بل پہلے اپنے فرضی بھائی (جس کا فیکٹری میں وجود نہیں ) کے نام سے وصول کر کے ہمیں اپنے دستخط شدہ چیک دے دیتا، لیکن اب تقریباً تین ماہ سے جملہ بل میرے نام سے وصول کر کے میرے اکاونٹ میں ڈلوا دیتا ہے ،پھر میری رقم میرے اکاونٹ میں چھوڑ کر اپنے پرانے نام پر ٹرانسفر کروا لیتا ہے ،میرے دستخط کروا کے۔
پوچھنا یہ ہے کہ مذکور آفیسر، سیٹھ سے جو کچھ بھی کہہ کر ہم سب کی رقم لیتا ہے ،اور مجھے جھوٹ بولنے کا کہتا ہے کہ اگر کوئی پوچھے تو کہنا کہ میں ساری رقم تقسیم کرتا ہوں، ٹھیکیداروں میں ، جبکہ رقم ٹرانسفر کروا کے وہ خود تقسیم کرتا ہے ، تو آیا اس کے فریب میں میرا تعاون تو شامل نہیں ، اور ایسی ملازمت مجھے کرتے رہنا چاہیئے یا نہیں ؟ بینوا توجروا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلی صورت میں مذکور پچیس پیسے کی کٹوتی ٹھیکیدار کی اجازت و منشاء کے خلاف مذکور آفیسر کی طرف سے زبردستی اور لازمی ہو تو یہ رشوت کے حکم میں نہیں بلکہ بحکمِ غصب ہے ،جس کے ناجائز و حرام ہونے میں شبہ نہیں، اس لئے مذکور آفیسر پر لازم ہے کہ اس طرح دوسروں کے حقوق غصب کر کے اپنی آخرت برباد نہ کرے، بلکہ ان مزدوروں کو اُن کا پورا پورا حق دینے کی فکر کرے۔
۲:اس صورت میں بھی اگر سائل کی اجازت و رضا مندی کے خلاف مذکور آفیسر کی طرف سے کسی قسم کی زبردستی کا سامنا ہو تب تو سائل گناہ گار نہیں ، ورنہ وہ بھی اس جعل سازی میں برابر کا شریک ہوگا، اس لئے اسے چاہیئے کہ یا تو مذکور آفیسر کی جعل سازی میں اپنی معاونت مکمل طور پر بند کر دے ،اور اگر اس صورت میں نقصان کا اندیشہ ہو تو پہلے کسی دوسری جگہ کام تلاش کرے جہاں اس قسم کی جعل سازی کی معاونت نہ کرنی پڑتی ہو پھر اس کو جواب دیکر اس ملازمت سے استعفیٰ دیدے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889) ۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس و في المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد اھ (5/ 362)۔
و في التنویر: (إزالة يد محقة بإثبات يد مبطلة في مال متقوم محترم قابل للنقل بغير إذن مالكه لا بخفية) اھ (6/ 178) ۔
و في سنن الترمذي: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» (3/ 598)۔
و في احكام القرآن للمفتى محمد شفيع: وقد نكة الكلام ان شرع الاسلام قد سد ابواب الفساد کلھا ولأجل ذلك نهی عن الاعانة على المعصية وعن التسبب للمعصية فالاول اذا كان بقصد المعصیة ونیتها حقیقة أو حکما کما فصلنا سابقا والثانی إذا کان سببا قریبا سواء فیھا النیة وعدمها اھ (۳/ ۸۱)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
رحمت اللہ دولت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83808کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات