گناہ و ناجائز

ہم جنس پرستی کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
83700
| تاریخ :
2025-06-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ہم جنس پرستی کا شرعی حکم

اسلام ہم جنس پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسلام ایک مکمل اور پاکیزہ دین ہے، اس نے انسانی فطرت اور جذبات کا بھرپور لحاظ رکھتے ہوئے جنسی خواہش جیسے طاقتور جذبے کی جائز اور محفوظ تکمیل کے لیے نکاح کو مشروع قرار دیا، نکاح نہ صرف نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے بلکہ محبت، سکون، عفت و پاکدامنی کےساتھ انسان کو بے راہ روی، فحاشی اور جنسی انارکی سے بچاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ہم جنس پرستی (مرد کا مرد سے یا عورت کا عورت سے جنسی تعلق) صریحاً حرام اور کبیرہ گناہ قراردیاہے۔ یہ عمل اسلام کے بنیادی اخلاقی، معاشرتی اور فطری اصولوں کے سراسر منافی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں قومِ لوط کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا، جو کہ اسی بدفعلی میں مبتلا تھی، اس قوم پراس جرم کی پاداش میں شدید عذاب بھی نازل فرمایا، اور قرآن میں کئی جگہ اس کا ذکر کیا تاکہ امت محمدیہ سمیت دیگراقوام اس سے عبرت حاصل کریں۔
قرآن کریم میں ارشادباری تعالی ہے
أَتَأۡتُونَ ٱلذُّكۡرَانَ مِنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّنۡ أَزۡوَٰجِكُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٌ عَادُونَ [الشعراء: 165-166]
ترجمہ: کیا دنیا کے سارے لوگوں میں تم ہو جو مردوں کے پاس جاتے ہو۔اور تمہاری بیویاں جو تمہارے رب نے تمہارے لیے پیدا کی ہیں، ان کو چھوڑے بیٹھے ہو ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تم حد سے بالکل گزرے ہوئے لوگ ہو۔
ارشاد باری تعالی ہے
وَلُوطًا إِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهِۦٓ أَتَأۡتُونَ ٱلۡفَٰحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنۡ أَحَدٖ مِّنَ ٱلۡعَٰلَمِينَ إِنَّكُمۡ لَتَأۡتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهۡوَةٗ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ [الأعراف: 80-81]
ترجمہ :اور ہم نے لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم اس بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں کے کسی شخص نے نہیں کی ؟ تم جنسی ہوس پوری کرنے کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کے پاس جاتے ہو۔ (اور یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں) بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ (شرافت کی) تمام حدیں پھلانگ چکے ہو۔
احادیث طیبہ میں بھی اس فعل شنیع پرسخت وعیدیں واردہوئی ہیں
نبی کریم ﷺ کاارشادمبارک ہے
«‌من ‌وجدتموه ‌يعمل ‌عمل ‌قوم ‌لوط» فاقتلوا الفاعل والمفعول به۔ سنن الترمذي» (3/ 124)
ترجمہ: "جس کو تم قومِ لوط والا عمل کرتے پاؤ، فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو۔"
البتہ ،یہ سزا اسلامی ریاست کے دائرے میں عدالت کے فیصلے سے نافذ ہوتی ہے، عام افراد کے لیے اس کا نفاذ جائز نہیں۔
جبکہ تمام فقہاء کرام ؒ ہم جنس پرستی کے فعل قبیح کے ثابت ہونےپرمجرم کوسخت ترین سزادینے پرمتفق ہیں ،البتہ ،بعض فقہاءاس سزاکوبطورحداوربعض حضرات تعزیری سزاکے طورپرنافذکرنے کے قائل ہیں ۔
ہم جنس پرستی کی دنیاوی تباہ کاریاں اورمعاشرتی مفاسد بھی بیشمارہیں جن میں سرفہرست نفسیاتی بیماریاں، احساسِ گناہ، ڈپریشن، ایڈز اور دیگرکئی مہلک جنسی بیماریاں ،معاشرتی انتشار اور اخلاقی زوال کاسبب بننے کے ساتھ نسل انسانی کی بقا کوبھی اس سے شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔لہذا،ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مغربی نظریات سے متاثر نہ ہو،گناہ میں مبتلا افراد کو اصلاح اور توبہ کی طرف بلائے،اوراس قسم کے فتنوں سے خود بھی بچے، دوسروں کو بھی بچائے اور معاشرے میں پاکیزگی اور عفت کو فروغ دے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی فی التنزیل:وَٱلَّذَانِ يَأۡتِيَٰنِهَا مِنكُمۡ فَـَٔاذُوهُمَاۖ فَإِن تَابَا وَأَصۡلَحَا فَأَعۡرِضُواْ عَنۡهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ تَوَّابٗا رَّحِيمًا [النساء: 16]
و فی تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن :
"ولوطا إذ قال لقومه أتأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين (80).
فيه أربع مسائل... الثانية- قوله تعالى: (أتأتون الفاحشة) يعني إتيان الذكور. ذكرها الله باسم الفاحشة ليبين أنها زنى، كما قال الله تعالى:" ولا تقربوا الزنى إنه كان فاحشة «2» ". ‌واختلف ‌العلماء ‌فيما ‌يجب ‌على ‌من ‌فعل ‌ذلك ‌بعد ‌إجماعهم على تحريمه، فقال مالك: يرجم، أحصن أو لم يحصن. وكذلك يرجم المفعول به إن كان محتلما. وروي عنه أيضا: يرجم إن كان محصنا، ويحبس ويؤدب إن كان غير محصن. وهو مذهب عطاء والنخعي وابن المسيب وغيرهم. وقال أبو حنيفة: يعزر المحصن وغيره، وروي عن مالك. وقال الشافعي: يحد حد الزنى قياسا عليه. احتج مالك بقول تعالى:" وأمطرنا عليهم حجارة من سجيل". فكان ذلك عقوبة لهم وجزاء على فعلهم. فإن قيل: لا حجة فيها لوجهين، أحدهما- أن قوم لوط إنما عوقبوا على الكفر والتكذيب كسائر الأمم. الثاني- أن صغيرهم وكبيرهم دخل فيها، فدل على خروجها من باب الحدود. قيل: أما الأول فغلط، فإن الله سبحانه أخبر عنهم أنهم كانوا على معاصي فأخذهم بها، منها هذه. وأما الثاني فكان منهم فاعل وكان منهم راض، فعوقب الجميع لسكوت الجماهير عليه. وهي حكمة الله وسنته في عباده.(7/ 243)
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح» :
وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ملعون من عمل عمل قوم لوط» . رواه رزين. وفي رواية له عن ابن عباس أن عليا أحرقهما وأبا بكر هدم عليهما حائطا. وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينظر الله عز وجل إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في دبرها» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب.
وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ملعون من عمل عمل قوم لوط» . رواه رزين) وفي الجامع الصغير: «ملعون من سب أباه ملعون من سب أمه، ملعون من ذبح لغير الله، ملعون من غير تخوم الأرض، ملعون من كمه أعمى عن طريق، ملعون من وقع على بهيمة، ملعون من عمل بعمل قوم لوط» . رواه أحمد بسند حسن عن ابن عباس.
«الفقه على المذاهب الأربعة» (5/ 125):
«أما اللواط فإنه من الجرائم الخلقية التي لا تليق بالنوع الإنساني، وفطرته التي فطره الله عليها. فاللواط فيه عدوان ظاهر على الإنسانية، وخروج عن سنن الله الطبيعية، ولهذا سماه الله فاحشة كالزنى، قال تعالى: {أتأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين} : فمن ارتكب هذا الفعل الشائن فقد اختلفت فيه آراء الأئمة: فمنهم من قال: إنه يعاقب عقوبة الزاني وهي الإعدام. إن كان محصناً، أما الموطوء فعقوبته الجلد كالبكر، لأنه لا يتصور فيه إحصان. ومنهم من يقول: إن عقاب اللائط من باب التعزير، لا من باب الحد، فعلى القاضي أن يحبسه، أو يجلده، بما يراه رادعاً له عن الجريمة، فإذا تكررت منه، ولم يزدجر عزر بالإعدام»

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83700کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات