گناہ و ناجائز

ادارہ کے لیے ملازم کی ایک یوم کی چھٹی پر دو دنوں کی تنخواہ کاٹنا شرعا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
83688
| تاریخ :
2025-06-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ادارہ کے لیے ملازم کی ایک یوم کی چھٹی پر دو دنوں کی تنخواہ کاٹنا شرعا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:ایک ادارے کی ترتیب ہے کہ غیر حاضری کی صورت میں ملازمین کی تنخواہ میں سے دو یوم کی کٹوتی اور رخصت کی صورت میں ایک یوم کی کٹوتی کی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ بالا ادارہ کا یہ عمل درست ہے؟ کیا غیر حاغیر حاضری کی ملازمین کی ڈبل تنخواہ کی کٹوتی شرعا جائز ہے؟بینو وتوجرو!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی ادارے میں ملازم کی شرعی حیثیت اجیر خاص کی ہے، پس وہ کام کے وقت میں حاضر رہنے سے اس وقت کی مکمل تنخواہ کے حق دار ہوں گا ، کسی غیر حاضری کی وجہ سے غیرحاضری سے زائد وقت کی تنخواہ کاٹنے کا شرعاً ادارےکو اختیار نہیں ،لہذا صورت مسئولہ میں ادارے کی یہ ترتیب غلط ہے ،بلکہ جتنے دن کی غیر حاضری ہو صرف اتنے دن کی تنخواہ کاٹنا درست ہے،ادارے کوغیرحاضری پرڈبل تنخواہ کاٹنے سے احترازلازم ہے۔جبکہ ،ایامِ رخصت کی تنخواہ کی بابت ادارے کا جو ضابطہ ہو، ملازم اسی ضابطہ کے مطابق تنخواہ ملنے یا نہ ملنے کا حق دار ہوتا ہے، لہذا اگرادارے کاضابطہ رخصت کے دن کی تنخواہ کی کٹوتی کاہوتواس کے لیے ایامِ رخصت کی تنخواہ کاٹناجائزاوردرست ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 83688کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات