محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته میں۔۔۔ محمد، آپ کی خدمت میں ایک اہم شرعی مسئلہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ اس کا تفصیلی فتویٰ عنایت فرمائیں گے۔ میری اہلیہ ۔۔۔نے مورخہ 18-05-2024 کو عدالت سے خلع حاصل کیا۔ یہ عدالت کا یک طرفہ فیصلہ ہے۔ میں عدالت کی کسی بھی سماعت میں شریک نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی میں نے خلع دینے پر کوئی رضامندی ظاہر کی۔ اب میں اپنی بیوی۔۔۔سے تعلقات بحال کرنا چاہتا ہوں اور دوبارہ اس کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ لہٰذامحترم مفتی صاحب سے درخواست ہے کہ مندرجہ ذیل امور پر شرعی رہنمائی فرمائیں:
1. کیا میری بیوی کا عدالت سے لیا گیا خلع شرعی طور پر نافذ ہو چکا ہے، جبکہ میں نے خلع پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی؟
2. اگر یہ خلع شرعاً درست نہیں ہے تو کیا ہمارا نکاح بدستور قائم ہے؟
3. اگر نکاح قائم ہے تو کیا میں اپنی بیوی سے دوبارہ ازدواجی زندگی گزار سکتا ہوں؟
4. اس صورت میں کیا کسی تجدیدِ نکاح یا رجوع کی ضرورت ہوگی؟ آپ کی شرعی رہنمائی ہمارے لیے باعثِ ہدایت ہوگی۔ مہربانی فرما کر اس مسئلے پر تفصیلی فتویٰ جاری فرمائیں تاکہ میں اس کے مطابق عمل کر سکوں۔
جزاکم اللہ خیراً
سائل کا بیان اگر واقعةً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طور پر کہ وہ واقعی عدالت میں حاضر نہیں ہوا ہو اور نہ ہی اس نے کبھی اس خلع پر رضامندی ظاہر کی ہو تو عدالت کی طرف سے جاری شدہ یک طرفہ خلع کی ڈگری کا شرعاً اعتبار نہیں، بلکہ اس ڈگری کے جاری ہونے کے بعد بھی شرعاً سائل کا اپنی بیوی سے نکاح برقرار ہے اور سائل بغیر تجدیدِ نکاح اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کر سکتا ہے۔
كما في أحكام القران للجصاص: لو كان الخلع إلى السلطان شاء الزوجان أو أبيا إذا علم أنهما لا يقيمان حدود الله لم يسألهما النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك ولا خاطب الزوج بقوله "إخلعها" بل كان يخلعها منه ويرد عليه حديقته وإن أبيا أو واحد منهما..الخ.(ج:1،ص:468،مط:البهية).
وفي بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الايجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول..الخ.(ج:3،ص:145،مط: سعيد)