السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میری کورٹ کے ذریعے سے خلع ہوئی ہے، تو میرے شوہر اس وقت امریکہ میں تھے اور ان کے وکیل نے واضح نو ابجیکشن دیا تھا جج کو، جو آرڈر میں بھی موجود ہے، لیکن جب یونین کونسل میں کیس گیا سرٹیفیکیٹ کے لئے، تو انہوں نے میرے شوہر سے رابطہ کیا، جس پر انہوں نے ایک مہینے میں آکے جواب دینے کا کہا اور جب وہ آئے تو کوئی مصالحت نہیں ہوئی، اور انہوں نے مزید وقت مانگا، جو کہ دیا بھی گیا تقریباً چار مہینے، اس میں کئی بار مصالحت کی بات بھی ہوئی، گھر کے چار افراد میں بیٹھ کے فیصلہ بھی ہوا چند شرائط پر، لیکن بعد میں وہ ماننے سے انہوں نے انکار کر دیا اور اس کے بعد وہ بالکل لاتعلق ہو گئے، نہ مجھے جواب دے رہے ہیں، نہ یونین کونسل کو ، نہ سائن کر کے دے رہے ہیں یونین کونسل میں حلف نامہ پر کہ نادرا کا سرٹیفیکیٹ لے سکوں، اب ایسی صورت میں اگر میں نادرا کا طلاق سرٹیفیکیٹ لے لوں، تو کیا احکام ہے اس خلع کے لئے؟ کیونکہ نہ وہ چھوڑنے پر راضی ہیں، نہ ساتھ رکھنے پر راضی ہے، بس بہت عرصے سے معاملات کو لٹکا کے رکھا ہوا ہے، نہ کوئی نان نفقہ دے رہا ہے، نہ کوئی حقوق اور فرائض پورے کر رہے ہیں، جب سے شادی ہوئی ہے تقریباً 3.5 سال سے، جس میں تقریباً تین سال کا ایک بچہ بھی ہے، جو میرے پاس ہے، اس کی ذمہ داری بھی نہیں لے رہا، مہربانی کر کے اس معاملہ پہ فتوی دیں خلع کے بارے میں، کہ خلع ہو جائے گی؟
سوال کے ساتھ منسلک عدالتی آرڈر اگر بمطابق اصل ہو، بایں طور کہ سائلہ کے عدالت میں مطالبۂ خلع کے جواب میں اس کے شوہر کی جانب سے وکیل حاضر عدالت ہوا ہو اور باقاعدہ پری ٹرائل کے دوران اس نے مؤکل یعنی سائلہ کے شوہر کی جانب سے نو ابجیکشن یعنی مطالبۂ خلع پر اپنی جانب سے آمادگی اور رضامندگی کا اظہار کیا ہو، جس کے جواب میں عدالت نے مذکور آرڈر جاری کیا ہو تو اس آرڈر کی وجہ سے سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان خلع واقع ہو چکی ہے، اور ان دونوں کا ایک طلاقِ بائن کے ذریعے نکاح ختم ہو چکا ہے، اب اگر سائلہ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو آزاد ہے، لہذا اگر سائلہ یونین کونسل میں جمع کردہ حلف نامہ کی بنیاد پر نادرا سے علیحدگی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کر لے تو شرعاً بھی وہ قابلِ قبول ہوگا۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ (سورۃ : البقرۃ ، آیت: 228)ـ
وفی الھدایۃ: وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به(باب الخلع ، ج: 2 ، ص: 96 ، ط: انعامیہ)ـ
و فی احكام القرآن للجصاص: قال انهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و انما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة و الآخر وكيل الزوج فی الخلع (الى قوله) و كيف يجوز للحكمين أن يخلعهما بغير رضاه و يخرج المال عن ملكها الخ (ج : 3 ، ص : 153 ، ط: سهیل اکیڈمی)۔
و فى بدائع الصنائع : و أما ركنه فهو الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة و لا يستحق العوض بدون القبول الخ (كتاب الطلاق، ج : 3 ، ص : 145 ، ط: ایچ-ایم- سعید)ـ
وفی الدر المختار : فانه لغو کما فی الفصول الخ
وفي رد المحتار : تحت : (قوله فانه لغو) (الی قوله) قلت: قدمنا الفرق هناك، وهو أن الخلع بائن وهو لايلحق مثله، والطلاق بمال صريح فيلحق الخلع". (کتاب الطلاق، باب الخلع، ج: 3 ، ص: 439 ، ط: سعيد)ـ
وفی الهداية : واذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث: فله ان يتزوجها فی العدة، وبعد انقضائها، لان حل المحلية باق: لان زواله معلق بالطلقة الثالثة ، فينعدم قبله الخ (فصل فيما تحل به المطلقة ، ج: 2 ، ص: 92 ،ط: انعامیۃ)۔