محترم مفتی صاحب! السلام علیکم!
کانٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ (LU) کے بارے میں پیدا کی گئی بے بنیاد خبروں کے حوالے سے ہمیں آپ کی راہ نمائی درکار ہے۔ کانٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ ایک پاکستانی کمپنی ہے، اس کے 50.5 فیصد حصص رکھنے والے مالکان پاکستانی ہیں اور باقی کے 49.5 فیصد حصص امریکی کمپنی مونڈ لیز انٹرنیشنل کے پاس ہیں کانٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ میں کسی فرانسیسی فرد اور کمپنی کی کوئی حصہ داری نہیں ہے ۔ LU برانڈ دنیا بھر میں 2007 مونڈ لیز انٹرنیشنل کی مکمل ملکیت ہے، جس کے تصدیقی دستاویزات اس خط کے ساتھ متصل ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی شان میں ہونے والی گستاخی کی ہم پُر زور مذمت کرتے ہیں اور جو غلط فہمیاں ہماری اس کمپنی کے بارے میں پیدا کی گئیں ہیں وہ سرا سر غلط ہیں۔ کچھ شر پسند عناصر کانٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ (LU) کو فرانس کی کمپنی ظاہر کر کے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے سے منسلک ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، گاڑیاں اور اسٹاک جلانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ کمپنی سے وابستہ ہزاروں ملازمین کاروزگار اور جان دونوں کو خطرہ لاحق ہے۔ اُمید ہے اس سنگین صورتحال میں آپ ہماری راہ نمائی فرمائیں گے۔
(منسلکہ ورقہ) کچھ اہم حقائق:
•کرافٹ فوڈز ایک امریکن ادارہ ہے جس نے 2007 میں LU برانڈ مکمل طور پر خریدا جسے بعد میں کرافٹ فوڈز اور مونڈ لیز انٹر نیشنل نام کے دو اداروں میں تقسیم کر دیا گیا۔
•پاکستان کی مشہور LU برانڈ " کا ٹینٹیل بسکٹس لمیٹڈ" کے زیر انتظام ہے یہ ایک پاکستانی کمپنی ہے، جس کی ملکیت اور رجسٹریشن پاکستان کی ہے اور اس میں حصص رکھنے والوں کی اکثریت پاکستانیوں کی ہے، جبکہ اس کی اقلیت مونڈ لیز انٹریشنل، جو کے ایک امریکن کمپنی کے پاس ہے۔
•کا ٹینیٹل بسکٹس لمیٹڈ کا سکھر میں بسکٹ پلانٹ ہے جہاں مقامی طور پر تمام بسکٹس تیار کیے جاتے ہیں اور حلال ہونے کی سند پاتے ہیں۔
مزید یہ کہ کا ٹینٹیل بسکٹس لمیٹڈ ایک پاکستانی کمپنی ہونے کی حیثیت سے مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کو دنیا کے بہت سے ممالک میں برآمد کرتے ہوئے بے حد فخر اور مسرت محسوس کرتی ہے۔
واضح ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و حرمت کا تقدّس پوری امتِ مسلمہ کا اجتماعی فریضہ ہے ، ہر شخص کے ذمہ اپنی استطاعت کے مطابق حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت و حرمت کاتحفظ لازم اور گستاخانہ عوامل کی روک تھام ضروری ہے، جس کی ادنیٰ سے ادنیٰ صورت یہ ہے کہ جو شخص اس کا مرتکب ہو اس سے قطعِ تعلق اور جس ملک (فرانس) نے نبی کریمﷺ کی شان عالی میں گستاخی کا ارتکاب کیا ہے، اس کا معاشی بائیکاٹ کیا جائے، اور اس ملک کی مصنوعات کی درآمد اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے، جو کہ ایک مسلمان کے لئے نبی کریمﷺ سے محبت اور اس کی غیرتِ ایمانی کا تقاضہ ہے ، لیکن اس معاملے میں جذبات سے مغلوب ہو کر بلا تحقیق کسی پراڈکٹ، یا کمپنی کو فرانس کی ملکیت قرار دیکر اس کا بائیکاٹ کرنا، یا اس کی مصنوعات، املاک اور کمپنی میں کام کرنے والے ملازمین کو نقصان پہچانا شرعاً اور عقلاً غیر دانشمندانہ اور نتائج کے اعتبار سے نقصان دہ عمل ہے۔ جبکہ جہاں تک سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ دستاویزات کا تعلق ہے اگر واقعۃً بھی درست ہوں، اس میں اپنی معاشی ساکھ بحال رکھنے کے لئے کسی قسم کی غلط بیانی اور جعل سازی سے کام نہ لیا گیا ہو تو اس میں ذکر کردہ تفصیلات کے مطابق چونکہ مذکور برانڈ (LU) فرانس کی ملکیت نہیں، اور نہ ہی اس سے حاصل شدہ آمدنی سے فرانس کی کسی قسم کی منفعت وابستہ ہے، لہٰذا محض مفروضوں اور افواہوں کی بنیاد پر مذکور بسکٹ بنانے والی کمپنی کے املاک اور ملازمین کو نقصان پہنچانا جائز اور درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافي صحيح البخاري: حدثنا عبد الله بن يوسف، (إلی قوله) قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم خيلا قبل نجد، فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له ثمامة بن أثال، (إلی قوله) فلما قدم مكة قال له قائل: صبوت، قال: لا، ولكن أسلمت مع محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا والله، لا يأتيكم من اليمامة حبة حنطة، حتى يأذن فيها النبي صلى الله عليه وسلم اھ (5/ 170)۔
وفي سنن أبي داود: حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن إسماعيل بن أبي خالد، حدثنا عامر قال: أتى رجل عبد الله بن عمرو، وعنده القوم حتى جلس عنده، فقال: أخبرني بشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه» (3/ 4)
وفي سنن ابن ماجه: حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر قال: حدثنا شعبة، قال: سمعت قتادة، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده، ووالده، والناس أجمعين» (1/ 26)۔
وفي الشفا بتعريف حقوق المصطفى: واعلم أن حرمة النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته وتوقيره وتعظيمه لازم كما كان حال حياته وذلك عند ذكره صلى الله عليه وسلم وذكر حديثه وسنته وسماع اسمه وسيرته ومعاملة آله وعترته وتعظيم أهل بيته وصحابته قال أبو إبراهيم التجيبي واجب على كل مؤمن متى ذكره أو ذكر عنده أن يخضع ويخشع ويتوقر ويسكن من حركته ويأخذ في هيبته وإجلاله بما كان يأخذ به نفسه لو كان بين يديه ويتأدب بما أدبنا الله به (إلی قوله) حدثنا ابن حميد قال ناظرا أبو جعفر أمير المؤمنين مالكا في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له مالك يا أمير المؤمنين لا ترفع صوتك في هذا المسجد فإن الله تعالى أدب قوما فقال (لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي) الآية، ومدح قوما فقال (إن الذين يغضون أصواتهم عند رسول الله) الآية، وذم قوما فقال (إن الذين ينادونك) الآية وإن حرمته ميتا كحرمته حيا اھ (2/ 40)۔