السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں سکول میں چونکہ ہر طبقے کے افراد کو داخلہ دے دیا جاتا ہے، اگر حفظ کی کلاس میں کوئی ایسا بچہ آ جائے جو شیعہ ہو تو کیا ایسے بچے کو قرآن کریم حفظ کروانا درست ہے؟ یا اس شیعہ بچےکو گھر میں یا آنلائن ٹیوشن پڑھانا اور اس پر اجرت لینا کیسا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عندالله ماجور ہوں۔ والسلام
شیعہ حضرات اگرچہ اہلِ سنت والجماعت کے عقائد سے انحراف رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں اور کلمۂ شہادت کا اقرار کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شیعہ بچہ قرآن کریم حفظ کرنا چاہے تو اسے حفظ کروانا شرعاً جائز ہے، کیونکہ قرآن مجید سیکھنے اور سکھانے کا حکم عام ہے، اور اس کا فیض کسی خاص فرقے یا طبقے تک محدود نہیں۔
البتہ دو اہم امور کی رعایت ضروری ہے:
1: عقائد و افکار کی اصلاح ۔ایسے بچے کو پڑھاتے وقت حتی المقدور اس کے غلط عقائد یا فاسد نظریات کی اصلاح کی کوشش کی جائے، اور اسے اہلِ سنت کے صحیح عقائد و مسلک کی طرف رہنمائی دی جائے۔
2: فتنہ سے حفاظت ۔ اگر استاد کو اندیشہ ہو کہ ایسے بچے کی وجہ سے دیگر طلبہ کے عقائد میں خلل یا بگاڑ آسکتا ہے تو اس کی تعلیم الگ ماحول میں دی جائے، مثلاً گھر یا آن لائن ٹیوشن وغیرہ میں۔
جہاں تک اجرت لینے کا تعلق ہے، تو قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت لینا فقہائے کرام کے نزدیک ضرورتاً جائز ہے، لہٰذا ایسے بچے کو گھر یا آن لائن پڑھانے اور اس پر اجرت لینے میں شرعاً حرج نہیں، بشرطیکہ تعلیم کا مقصد خالصتاً اللہ کے دین کی خدمت اور قرآن کے فیض کو عام کرنا ہو، نہ کہ صرف مادی مفادحاصل کرنا۔
کمافی البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري : وفي الذخيرة إذا قال الكافر من أهل الحرب أو من أهل الذمة: علمني القرآن فلا بأس بأن يعلمه ويفقهه في الدين۔(8/ 231)
و فی شرح السير الكبير : وإذا قال الحربي أو الذمي للمسلم: علمني القرآن فلا بأس بأن يعلمه ويفقهه في الدين لعل الله يقلب قلبه. ألا ترى أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ القرآن على المشركين وبه أمر قال الله تعالى: {بلغ ما أنزل إليك من ربك} [المائدة: 67] . وقال الله تعالى {ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة} [النحل: 125] . ومعلوم أن تمام هذه الصفة في القرآن والفقه المستنبط من القرآن وهو الحكمة، كما قال الله تعالى: {ومن يؤت الحكمة فقد أوتي خيرا كثيرا} [البقرة: 269] . وفسره المفسرون بالفقه وإنما يتحقق دعاؤه (56 ب) بهذا الطريق إذا علمه ذلك وفهمه. وقال تعالى: {وإن أحد من المشركين استجارك فأجره حتى يسمع كلام الله} [التوبة: 6] يعني يسمع فيفهم فربما يرغب في الإيمان لما يقف عليه من محاسن الشريعة. وهذا هو المراد من قوله: لعل الله يقلب قلبه.(ص206)
و فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري : قال رحمه الله (والفتوى اليوم على جواز الاستئجار لتعليم القرآن) ، وهذا مذهب المتأخرين من مشايخ بلخ استحسنوا ذلك وقالوا بنى أصحابنا المتقدمون الجواب على ما شاهدوا من قلة الحفاظ ورغبة الناس فيهم؛ ولأن الحفاظ والمعلمين كان لهم عطايا في بيت المال وافتقادات من المتعلمين في مجازات التعليم من غير شرط، وهذا الزمان قل ذلك واشتغل الحفاظ بمعائشهم فلو لم يفتح لهم باب التعليم بالأجر لذهب القرآن فأفتوا بالجواز، والأحكام تختلف باختلاف الزمان وكان محمد بن الفضل يفتي بأن الأجرة تجب ويحبس عليها وفي الخلاصة إذا أخذ المعلم من الصبي شيئا من المأكول أو دفع الصبي ذلك إلى ولد المعلم لا يحل له بخلاف ثمن الحصر؛ لأن ذلك تمليك من أب الصغير. اهـ. و في حديث عثمان رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «خير الناس من تعلم القرآن وعلمه» . ولم يفصل بين تعليم المسلمين وتعليم الكفار. وإذا كان يندب إلى تعليم غير المخاطبين رجاء أن يعملوا به إذا خوطبوا، فلأن يندب إلى تعليم المخاطبين رجاء أن يهتدوا به ويعلموا كان أولى.(8/ 22)