گناہ و ناجائز

حلال و حرام برگر بنانے کی ملازمت کا حکم

فتوی نمبر :
82308
| تاریخ :
2025-04-25
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حلال و حرام برگر بنانے کی ملازمت کا حکم

میں ایک پاکستانی طالب علم ہوں . رشیا میں رہتا ہو پیسوں کی سخت ضرورت ہے چھ مہینے سے حلال کام نہیں مل رہا۔ یہاں جو کام ملتا ہے اس میں حرام کا کوئی نا کوئی عنصر شامل ہوتا ہے . مفتی صاحب مجھے ایک برگر بنانے والی دکان پے کام مل رہا ہے جہاں مجھے چکن اور پورک برگر بنا کے پیک کرنے ہوتے ہے . میں کیا وہ کام کرسکتا ہو ؟ کیا اسمیں کوئی گنجائش ہوسکتی ہے ؟ میری رہنمائی فرما دیں .

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ خنزیر نجس العین اور حرام جانور ہے، اور جس طرح ایک مسلمان کےلئے خود اس کا استعمال مطلقا ناجائز اور حرام ہے اسی طرح اس کے گوشت کی تیاری، فروخت، ترسیل یا اس کے استعمال میں کسی بھی درجے کی معاونت بھی شرعا جائز نہیں۔قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں حرام امور میں تعاون کرنے کی ممانعت اور وعید وارد ہوئی ہے۔ لہٰذا سائل کے لیے مذکورہ دکان پر خنزیر کے گوشت سے برگر تیار کرنے کا کام کرنا شرعاًناجائز ہے اور اس حرام کام میں معاونت کے بقدر آمدنی بھی حلال نہ ہوگی، اس لئے اس سے اجتناب اور دوسری کوئی جائز ملازمت اختیار کرنالازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی سنن ترمذی: عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌في ‌الخمر ‌عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له.اھ ( أبواب البيوع، باب النهي عن أن يتخذ الخمر،2 / 580، ط: دار الغرب الإسلامي )
وفی الھندیة: "ولواستاجرمسلما لیرعی لہ الخنازیر یجب ان یکون علی الخلاف کما فی الخمرولواستاجرہ لبیع لہ میتۃ لم یجز ھکذا فی الذخیرۃ ا".(كتاب الاجارة،الباب السادس،450/4،دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82308کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات