گناہ و ناجائز

تراویح پڑھانے پر معاوضہ لینا

فتوی نمبر :
82057
| تاریخ :
2025-04-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تراویح پڑھانے پر معاوضہ لینا

حضرات علماء ِکرام !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ !(1) مسئلہ درپیش ہے کہ کیا تراویح میں قرآن پاک سنانے والا معاوضہ لے سکتا ہے یا نہیں ؟(2) کیا معاوضہ لینے کے لیے لوگوں کو ترغیب دیتے ہوئے جو حدیث مبارکہ میں ہے صحابہ کرام سفرمیں تھے اور صحابہ کرام کے پاس خرچہ اخراجات ختم ہو گئے تو صحابہ کرام ( ایک بستی میں تھے تو انہوں نے بستی والوں سے کچھ مانگا تو بستی والوں نے انکار کر دیا ،بستی والوں کا ایک آدمی بیمار ہو گیا جو بستی والوں کا سربراہ تھا ،وہ ٹھیک نہیں ہو رھا تھا تو بستی والے صحابہ کرام کے پاس آئے اور کہا کہ کیا آپ ہمارے آدمی کا علاج کر دو گے؟ تو حضرات صحابہ کرام نے فرمایا ہم علاج کر دیں گے، لیکن 40 بکریاں معاوضہ لیں گے تو صحابی رسول نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو ان کا آدمی ٹھیک ہو گیا تو بستی والوں نے وعدہ کے مطابق 40 بکریاں دے دیں ۔ تو صحابہ کرام نے یہ محسوس کیا کہ پتہ نہیں یہ جائز ھے یا نہیں تو صحابہ کرام نے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ جائز ھے اور اس میں میرا حصہ بھی رکھ لیں، تراویح میں قرآن پاک سنانے والااس حدیث مبارکہ کو دلیل بنا کر معاوضہ لے سکتا ہے یا نہیں؟ ہمارے سوال میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو درست فرمادیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ تراویح کی نماز عبادتِ محضہ ہے جس کا مقصد رضائے الٰہی اور ثوابِ آخرت ہے، اس لیے اس میں قرآن سنانے پر اجرت یا معاوضہ لینا شرعاً ناجائز و حرام ہے، کیونکہ عبادات میں اجرت اخلاصِ نیت کے منافی ہے، البتہ اگر کوئی حافظ بلا شرط تراویح پڑھائے اور بعد میں لوگ خوشی و رغبت سے بطور ہدیہ یا صدقہ کچھ پیش کریں تو اسے لینا جائز ہے، بشرطیکہ نیت خالص دینی خدمت اور اجرِ اخروی ہو، نہ کہ مالی غرض، جبکہ صحابہؓ کے دم اور معاوضے کا واقعہ چونکہ علاج و نفعِ انسانی سے متعلق تھا جو عبادتِ محضہ نہیں، اس لیے تراویح کو اس پر قیاس کرنا درست نہیں، نیز فقہی طور پر تراویح میں قرآن مکمل سنانا بھی لازم نہیں،بلکہ الم تر کیف سے یا کسی بھی مقدار میں قرآن پڑھ لیا جائے تو تراویح ادا ہو جاتی ہیں، لہٰذا اس میں اجرت یا معاوضہ لینا شرعاً جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في رد المحتار: ويمنع القارئ للدنيا والآخذ والمعطي أثمانا. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز. لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال. فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة، فأين يصل الثواب إلى المستأجر؟ ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان. بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا. إنا لله وإنا إليه راجعون.(6/56)
وفيه أيضاً: المعروف كالمشروط.(3/130)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82057کی تصدیق کریں
0     560
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات