گناہ و ناجائز

بچوں کے نام پر ٹرین کی ٹکٹ لے کر بڑوں کا سفر کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
81808
| تاریخ :
2025-03-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بچوں کے نام پر ٹرین کی ٹکٹ لے کر بڑوں کا سفر کرنے کا حکم

میری فیملی جس میں ایک خاتون بھی ہیں، انہیں ٹرین سے پنڈی جانا ہے۔ ٹرین والے دو طرح کے ٹکٹ آفر کرتے ہیں: ایک بڑوں (adults) کا اور دوسرا بچوں (children) کا، جو کہ آدھی قیمت پر ہوتا ہے۔ ہم کل تین لوگ سفر کر رہے ہیں، لیکن ٹرین کا کمپارٹمنٹ 6 سیٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں پردے کا مسئلہ پیش آ رہا ہے کیونکہ ایک خاتون بھی ساتھ ہیں۔ ایک حل ہم نے سوچا ہے کہ 3 اضافی ٹکٹ ہم خرید لیں اپنے بچوں کے نام سے، لیکن ان ٹکٹوں پر بچے سفر نہیں کریں گے کیونکہ ہم انہیں لے کے نہیں جا رہے۔ یہ اضافی ٹکٹوں کی سیٹیں خالی رہیں گی۔ ہمیں بس 3 بچوں کے ٹکٹوں کے اضافی پیسے دینے ہوں گے، لیکن وہ چونکہ آدھی قیمت پر ہیں اس لیے ہمیں اتنا نقصان نہیں ہوگا۔ اگر ہم 3 اضافی بڑوں کے ٹکٹ لیتے ہیں تو وہ بھی خالی ہی جائیں گے لیکن ہمیں نقصان زیادہ جھیلنا پڑے گا۔آپ بتائیں کہ بچوں کے نام کی اضافی ٹکٹیں لینا جائز ہے کیونکہ یہ ٹرین ہی آفر کرتی ہے۔ ہم اپنی ٹکٹیں بڑوں والی ہی لے رہے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح رہے کہ جب کوئی شخص ٹرین کا ٹکٹ لے رہا ہوتا ہے تو وہ محکمہ کے ساتھ عقدِ اجارہ کر رہا ہوتا ہے کہ میں اتنے کرائے پر آپ کی گاڑی میں سفر کروں گا۔ اسی طرح بچوں کا ٹکٹ لیتے وقت بھی یہ بات طے ہو رہی ہوتی ہے کہ اتنے بچے ٹرین میں سفر کریں گے۔ چنانچہ محکمہ کی طرف سےبچوں بڑوں کے لئے، جتنی اجرت /کرائےکے عوض ،جتنے منافع (سیٹ اور منزل وغیرہ )کا حصول طے ہو تو دھوکہ اور فراڈ کے ذریعے اس سے زائد کا حصول جائز نہیں۔ لہذا سائل کے لئے سوال میں درج وجوہات کی بنا پر بچوں کے نام سے ٹکٹ لے کر پورے کمپارٹمنٹ کو اپنے استعمال میں لانا قطعا ًجائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ پورا کرایہ ادا کرکے پورا کمپارٹمنٹ اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع: [فصل في ركن الإجارة ومعناها](فصل) :وأما ركن الإجارة، ومعناها أما ركنها فالإيجاب والقبول وذلك بلفظ دال عليها وهو لفظ الإجارة، والاستئجار، والاكتراء، والإكراء فإذا وجد ذلك فقد تم الركن (الی قولہ)والكلام في صيغة الإيجاب والقبول وصفتهما في الإجارة كالكلام فيهما في البيع، وقد ذكرنا ذلك في كتاب البيوع(الی قولہ)وسواء أضيف إلى الدور، والمنازل، والبيوت والحوانيت، والحمامات، والفساطيط، وعبيد الخدمة، والدواب، والثياب، والحلي والأواني، والظروف، ونحو ذلك أو إلى الصناع من القصار، والخياط، والصباغ والصائغ، والنجار والبناء ونحوهم(الی قولہ)إلا أن المنفعة تختلف باختلاف محل المنفعة فيختلف استيفاؤها باستيفاء منافع المنازل بالسكنى، والأراضي بالزراعة، والثياب والحلل وعبيد الخدمة، بالخدمة والدواب بالركوب والحمل، والأواني والظروف بالاستعمال الخ ( کتاب الاجارۃ ج:4 ص:174 ط: دار الکتب العلمیۃ )۔
و فیہا ایضاً: أما الأول: فهو ثبوت الملك في المنفعة للمستأجر، وثبوت الملك في الأجرة المسماة للآجر؛ لأنها عقد معاوضة إذ هي بيع المنفعة الخ(فصل فی حکم الاجارۃ ج:4 ص:201 ط:دار الکتب العلمیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81808کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات