گناہ و ناجائز

شاملات کی ملکتی زمین میں گاؤں والوں کے حصہ کے مطالبہ کا حکم

فتوی نمبر :
81603
| تاریخ :
2025-02-22
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شاملات کی ملکتی زمین میں گاؤں والوں کے حصہ کے مطالبہ کا حکم

ہمارے گاؤں میں ایک زمین تھی جو شاملات کہلاتی ہے، ایک شخص اس کو استعمال کر رہا تھا ۔میرے آبا ؤ اجداد امام مسجد تھے، اس شخص نے وہ زمین ان کو دے دی۔1956 میں گورنمنٹ نے قانون پاس کیا جس کے پاس ایسی زمین موجود ہے جس پر وہ کافی عرصے سے قابض ہے وہ اپنے مالکانہ حقوق گورنمنٹ میں جمع کروا کر اپنے نام کروا سکتا ہے تو میرے آباؤ اجداد نے وہ اپنے نام کروا لی اور گاؤں کے کسی شخص نے اس کے اوپر کوئی اعتراض نہیں کیا۔اب وہ زمین ہمارے پاس ہے، کیا وہ زمین ہمارا مالکانہ حقوق ہم رکھتے ہیں اس کا کیونکہ گاؤں کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمین ہماری ہے اور ہم نے دی ہے اپ لوگ اس کے اوپر ناجائز قابض ہیں مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ جب مذکورہ زمین سائل کے آباؤ اجداد کو کسی شخص کی طرف سے دی گئی تھی، اور بعد میں قانونی طور پر بھی سائل کے آباؤ اجداد کے نام منتقل کردی گئی، تو گاؤں والے کس بنیاد پر سائل اور اس کے خاندان کو قابض اور غاصب قرار دیتے ہیں۔
تاہم اگر مذکورہ زمین واقعۃً کسی شخص کے تصرف و ملکیت میں تھی، پھر اس نے اپنے اختیار سے وہ زمین سائل کے آباؤ اجداد کو باضابطہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دے دی تھی، اور بعد ازاں 1956ء کے قانون کے تحت انہوں نے سرکاری و قانونی طریقۂ کار کے مطابق اسے اپنے نام منتقل بھی کروالیا تھا، نیز اس پر کسی فریق کی جانب سے بروقت کوئی اعتراض یا دعویٰ بھی ثابت نہیں ہوا، تو ایسی صورت میں وہ زمین شرعاً و قانوناً سائل کے آباؤ اجداد ہی کی ملکیت شمار ہوگی۔
البتہ اگر معاملے کی نوعیت اس سے مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل، نیز گاؤں والوں کا مؤقف ذکر کرکے سوال دوبارہ ارسال کردیا جائے، پھر اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدرالمختار:(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".(690/5)
وفی درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام:"(المادة 1271) الأراضي القریبة من العمران تترک للأھالی مرعی ومحتصدا ومحتطبا ویقال لھا الأراضی المتروکة.
الأراضي القريبة من العمران أي الخارجة عن العمران أو القريبة منه تترك للأهالي على أن تتخذ مرعى أو بيدرا أو محتطبا ولا يعد انتفاع الأهالي منقطعا عن تلك الأراضي (الطوري). والمحلات التي يصل إليها صوت جهير الصوت عند صياحه من أقصى العمران تعد قريبة من العمران وحريما للعمران فلا تعد مواتا ولو لم يكن لها صاحب... كما أن الأراضي الواقعة داخل العمران أي في داخل القصبة والقرية لا تعد مواتا وتدعى هذه الأراضي الأراضي المتروكة فلا يجوز إحياء هذه الأراضي ولا تمليكها لآخر لأنه إذا كان الناس يستعملونها في الحال فهم محتاجون إليها تحقيقا وإذا كانوا لا يستعملونها فهم محتاجون إليها تقديرا وهذه الأراضي هي كالطريق والنهر."(279/3)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81603کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات