السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میں IPTV کا کام کرتا ہوں اور اس کی جائز یا ناجائز حیثیت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ آئی پی ٹی وی درحقیقت لوگوں کو ٹی وی چینل موبائل پر دیکھنے کےلئے فروخت کرنے کا نام ہے۔ مثال کے طور پر جیسے میرے پاس ٹچ اسکرین موبائل ہے اور میں اس میں انٹرنیٹ کا پیکیج لگواتا ہوں۔ پیکیج لگوانے اور انٹر نیٹ چلنے کے بعد میرے پاس یہ چوائس ہے کہ میں کیا دیکھتا ہوں کیا سنتا ہوں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں انٹرنیٹ پر تو ہر قسم کا ڈیٹا موجود ہے، اگر آپ چاہیں تو قرآنِ کریم کی تلاوت سن سکتے ہیں، علماءِ کرام کے بیان سن سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو وہاں پر لائیو میچز دیکھ سکتے ہیں، فلمیں ڈرامے دیکھ سکتے ہیں۔ حتی کہ انٹرنیٹ پر فحش فلمیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں، سب کچھ دیکھنے والے کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔ اب اصل پوائنٹ کی طرف آتے ہیں کہ IPTV کیا ہے تو آئی پی ٹی وی بھی دراصل لگنے والے انٹرنیٹ پیکیج کی طرح ہے۔ فرض کیا اگر میں آئی پی ٹی وی کا پیکیج لگواتا ہوں تو میں اوپر بیان کی گئی تمام قسم کی موویز دیکھ سکتا ہوں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عام انٹرنیٹ پر کوئی بھی شخص کوئی بھی چیز دیکھ سکتا ہےتو وہ آئی پی ٹی وی کا پیکیج کیوں لگواتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ فلمیں کچھ موویز اور بہت سی ٹی وی چینلز جو کہ لائیو چل رہے ہوتے ہیں، وہ عام انٹر نیٹ پر قابلِ رسائی نہیں ہوتے۔ اس لئے انہیں چلانے کےلئے آئی پی ٹی وی کا پیکیج لینا پڑتا ہے، کیونکہ آئی پی ٹی وی والے اور چینلز والے اور موویز والے ان کا آپس میں ایک کنکشن ہوتا ہے۔ چینلز والے آئی پی ٹی وی کمپنیز کو اپنی سبسکرپشن بیچتے ہیں اور پھر آئی پی ٹی وی والے لوگوں کو بہت سے چینلز اکٹھے کرکے ایک ہی پلیٹ فارم پر دے دیتے ہیں۔ مختصراً اگر یوں کہیں کہ ایک سے زیادہ چینلز کو دیکھنے کےلئے اور فرداً فرداً ایک ایک کمپنی سے رابطہ کرنے کی بجائے اگر آئی پی ٹی وی کا ایک پیکیج لیا جائے تو آپ بہت سے چینلز کو ایک ہی جگہ اکٹھے دیکھ سکتے ہیں اور بیسیوں چینلز سے علیحدہ علیحدہ رابطہ کرنے کے بجائے ایک ہی آئی پی ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں۔ اب چونکہ میں آئی پی ٹی وی لوگوں کو سیل کرتا ہوں تو میں یہ کرتا ہوں کہ اس میں سے فحش چینلز کو ختم کردیتا ہوں اور جو میرے گاہک ہوتے ہیں، وہ فحش ( ننگی فلمز ) چینل کے علاوہ سارے چینلز دیکھ سکتے ہیں۔ جس میں فلمیں بھی آتی ہیں، ڈرامے بھی ہوتے ہیں، گانے بھی ہوتے ہیں، میچز بھی ہوتے ہیں، اسلامی مواد بھی ہوتا ہے۔ میرے تمام تر گاہک غیر ملکی ہوتے ہیں۔ کیا یہ سب جائز ہے؟
واضح ہو کہ آئی پی ٹی وی کے چینلز اور ان پر دکھائے جانے والے اکثر پروگرام فحاشی، عریانی ، غیر اخلاقی اور بے حیائی والی ویڈیوز پرمشتمل ہو تے ہیں اور اسلامی چینلزاور پروگرام اس میں نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور آئی پی ٹی وی کے چینلز بیچنے والا چونکہ سببِ قریب کے درجے میں ان گناہوں کےلئے تعاون کرنے والا بنتا ہے، لہذاآئی پی ٹی وی انسٹالیشن کاکام شرعاً ناجائز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے۔ لہٰذا سائل پر مذکورناجائزکام ترک کرتےہوئےکسی حلال وطیب ذریعۂ معاش اختیارکرنےکی سعی کرنالازم ہے ۔
کما فی القرآن المجید: (و تعاونوا علی البر و التقوی و لا تعاونوا علی الإثم و العدوان) الآیۃ۔ (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2)۔
و فی أحکام القرآن للعربی: (و من الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم و یتخذھا ھزوا أولئک لھم عذاب مھین) فیھا ثلاثۃ مسائل: المسئلۃ الأولی: ” لھو الحدیث “ : ھو الغناء و ما اتصل بہ: فروی الترمذی و الطبری و غیرھما عن أبی أمامۃ الباھلی أن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: لا یحل بیع المغنیات و لا شراءھن و لا التجارۃ فیھن، و لا أثمانھن، و فیھن أنزل اللہ تعالی: (و من الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم إلخ) المسئلۃ الثانیۃ: و قد بینا جواز الزمر فی العرس بما تقدم من قول أبی بکر: أ مزمار الشیطان فی بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم؟ فقال دعھا یا أبابکر فإنہ یوم عید، و لکن لا یجوز انکشاف النساء للرجال و لا ھتک الأستار، و لا سماع الرفث، فإذا خرج ذالک إلی ما لا یجوز منع من أولہ، و اجتنب من أصلہ إلخ۔ (سورۃ لقمان، ج 3، ص 124۔125، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی تکملۃ فتح الملھم: أما التلفزیون و الفدیو، فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر إلی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ: من الخدعۃ، و المجون، و الکشف عن النساء المتبرجات أو العاریات، و ما إلی ذالک من أسباب الفسوق إلخ۔ (کتاب اللبا و الزینۃ، باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان، ج 4، ص 164، ط: دار العلوم کراچی)۔
و فی الفقہ البیوع: لکن ھناک معنی آخر یقارب معنی الإعانۃ، و ھو التسبب، و ھو أیضاً لا یخلوا عن حرمۃ و کراھۃ إذا کان سببا للمعصیۃ۔ فتنقیح الضابط فی ھذا الباب علی ما من بہ علی ربی: أن الإعانۃ علی المعصیۃ حرام مطلقا بنص القرآن، أعنی: قولہ تعالی: (و لا تعاونوا علی الإثم و العدوان) (المائدۃ:2)، و قولہ تعالی: (فلن أکون ظھیرا للمجرمین) (القصص:17) و لکن الإعانۃ حقیقۃ ھی: ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین، و لا یتحقق إلا بنیۃ الإعانۃ، أو التصریح بھا، أو تعینھا فی استعمال ھذا الشئی بحیث لا یحتمل غیر المعصیۃ، و ما لم تقم المعصیۃ بعینہ لم یکن من الإعانۃ حقیقۃ، بل من تسبب، و من أطلق علیہ لفظ (الإعانۃ) فقد تجوز، لکونہ صورۃ إعانۃ، کما مر من السیر الکبیر۔ ثم السبب إن کان سببا محرکا و داعیا إلی المعصیۃ، فالتسبب فیہ حرام، کالإعانۃ علی المعصیۃ بنص القرآن، کقولہ تعالی: (و لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ)(الأنعام:109)، و قولہ تعالی: (فلا تخضعن بالقول) (الأحزاب:32)، و قولہ تعالی: (و لا تبرجن) الآیۃ (الأحزاب:33) إلخ۔ (الباب فی الأحکام المتعلقۃ بالمتعاقدین، إن کان أحد العاقدین یقصد بالعقد ارتکاب معصیۃ، ج 1، ص 185، ط: معارف القرآن)۔