کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ پکوان سینٹر والے کو اگر کسی کا آرڈر آئے کہ دو دیگ تیار کر دے، اور آرڈر دینے والا دیگ لینے نہ آئے، کیا آڈر دینے والے سے ضمان وصول کیا جائیگا ؟
اس طرح آرڈر دینے والا شخص اگر بلا وجہ اپنا تیار سامان لینے کے لئے نہ آئے ،اور وہ ضائع ہو جائے ،تو اس صورت میں اپنے واقعی نقصان کے برابر ضمان لینے کی اجازت ہے، بشرطیکہ نہ تو کسی دوسرے پر اسے فروخت کیا گیا ہو، اور نہ ہی اپنے استعمال میں لایا ہو، بلکہ واقعی طور پر وہ ضائع ہو گیا، ورنہ محض آرڈر دینے کی وجہ سے متوقع نقصان کا ضمان لینا جائز نہ ہوگا۔
ففي شرح المجلة : إذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرا (إلی قوله) وهذا أي اللزوم عند الموافقة قول الإمام أبي يوسف لكونه أوفق وعليه مشت المجلة اھ (۲/ ۴۰۶) ۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: أن هذا الرأي الذي أخذت به المجلة سديد جدا، منعا من وقوع المنازعات بين المتعاقدين، ودفعا للضرر عن الصانع، (إلی قوله) ويتناسب مع الظروف الحديثة التي يتفق فيها على صناعة أشياء خطيرة وغالية الثمن كالسفن والطائرات، فلا يعقل والحالة هذه أن يكون عقد الاستصناع فيها غير لازم. اھ (5/ 311)۔
وفي مجلة مجمع الفقه الإسلامي: يكون ملزمًا للواعد ديانة إلا لعذر، وهو ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الوعود في كلفة نتيجة الوعد، ويتحدد أثر الإلزام في هذه الحالة إما بتنفيذ الوعد، وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلا عذر اھ (5/ 715)۔