گناہ و ناجائز

اپنے مملوکہ مکان میں تصرف کر نے سے اگردوسروں کو تکلیف ہوتو اس کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
80334
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اپنے مملوکہ مکان میں تصرف کر نے سے اگردوسروں کو تکلیف ہوتو اس کا شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم دو بھائیوں میں ایک مکان مشترک تھا، اب ہم نے تقسیم کر دی، مکان آدھا آدھا کر دیا، اب میرا بھائی اپنے حصہ کو تین منزلہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اس سےہمارے گھر کا پردہ امن ختم ہو جاتا ہے، میں نے اس کو روکا ہے ،کیا کوئی آدمی ایسا کر سکتا ہے کہ مکان کو اونچا کرنے سے دوسروں کو نقصان وتکلیف اور بےپردگی ہو ،یا ہوا روشنی بند ہو جائے، بھائی کے علاوہ کوئی قریب پڑوسی ایسا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم با حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ سائل کا بھائی اپنے مملوکہ پلاٹ میں اپنی مرضی کے موافق تصرفات کرنے کا شرعاً وقانوناً مجاز ہے، مگر مذکور تعمیر سے پڑوسیوں کے لیے ضررہو، اور روشنی میں رکاوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے بے پردگی کا بھی باعث ہو تو اس صورت میں منشاءِ شریعت کے موافق سائل کو اعتراض کا حق حاصل ہے ،اور سائل کے بھائی کو چاہیے کہ اپنے مذکور ارادے کی تکمیل کے بجائے اپنے مکان کو اس انداز سے تعمیر کرے، جس سے پڑوسیوں خصوصاً بھائی کو تکلیف اور ضرر نہ ہو، جس کی بلاشبہ کئی ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (ولا يمنع الشخص من تصرفه في ملكه إلا إذا كان الضرر) بجاره ضررا (بينا) فيمنع من ذلك وعليه الفتوى بزازية، واختاره في العمادية وأفتى به قارئ الهداية، حتى يمنع الجار من فتح الطاقة اھ (5/ 448)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله حتى يمنع الجار من فتح الطاقة) أي يكون فيها ضرر بين بقرينة ما قبله وهو ما أفتى به قارئ الهداية لما سئل هل يمنع الجار أن يفتح كوة يشرف منها على جاره وعياله؟ فأجاب بأنه يمنع من ذلك اهـ، (إلی قوله) إذا كانت الكوة للنظر وكانت الساحة محل الجلوس للنساء يمنع وعليه الفتوى اهـ (5/ 448)۔ والله أعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب الرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80334کی تصدیق کریں
0     498
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات