کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں آٹے کی ایک ہی چکی ہے، اور اس کا مالک قادیانی ہے،ہم اس سے آٹا وغیرہ لیتے ہیں، اور گندم، دال، چاول وغیرہ پسواتے ہیں، اور اس کا بھینس کا باڑہ بھی ہے، جہاں سے ہم دودھ خریدتے ہیں، کیا ہمارے لئے اس کے ساتھ آٹا ، گندم اور دودھ وغیرہ کا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر مسئلہ کی رہنمائی فرمائیں۔
اگر کوئی دوسری چکی اور باڑہ نہ ہو تو اس صورت میں بامرِ مجبوری شخص مذکور سے معاملہ کرنے کی بھی اجازت ہے، مگر اسے تائب ہونے اور حق کی طرف لوٹنے کی دعوت بھی دیتا رہے، اور اگر اس سے کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہو ،یا وہ سادہ لوح مسلمانوں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اپنے باطل عقائد و نظریات کی دعوت دیتا ہو ،یا کسی قسم کا لالچ دیتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے ساتھ مذکور معاملات انجام دینے کی بجائے اہل علاقہ کو مشترکہ طور پر اپنی ضروریات پوری کرنے کی فکر لازم ہے۔
كما في صحيح البخاري: عن عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنهما قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها فقال النبي صلى الله عليه وسلم بيعا أم عطية أو قال أم هبة قال لا بل بيع فاشترى منه شاة اھ (3/ 80)۔
و في الدر المختار: (و) يقبل قول الفاسق والكافر والعبد في (المعاملات) لكثرة وقوعها (كما إذا أخبر أنه وكيل فلان في بيع كذا فيجوز الشراء منه) اھ (6/ 345)۔
و في الفتاوى الهندية: لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية اھ (5/ 348)۔