السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،جناب اعلی ! میرا سوال یہ ہے میرا بحرین میں روڈ ایکسیڈینٹ ہوگیا تھا ،میری ہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں اور بحرین حکومت کی طرف سے مجھے علاج کے لئے 30 لاکھ روپے ملے تھے ،اب یہ 30 لاکھ روپے ٹریکٹر کی صورت میں موجود ہیں، اب بھائیوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم ہو رہی ہے ،میرے بھائی اب اس 30 لاکھ روپے میں حصہ مانگ رہے ہیں ،کیا یہ 30 لاکھ روپے بھائیوں میں تقسیم ہو نگے یا نہیں؟ شرعی لحاظ سے جواب دیں۔
صورت ِ مسئولہ میں سائل کو بحرین کی حکومت نے علاج کیلئے جو رقم دی تھی، وہ حکومتِ بحرین کی جانب سے سائل پر تبرع واحسان تھا، لہذا اس رقم اور اس سے خریدی گئی تمام چیزیں فقط سائل کی ملکیت ہیں، اس کے دیگر بھائیوں کا اس میں حصہ داری کا دعوی کرنا نامناسب اور ظلم وزیادتی کے مترادف ہے جس سے بہر صورت احتراز چاہیئے۔
کمافی التاتارخانیۃ: وفی ھبۃ الأصل: إذاقال ھی لك فأقبضھا فھی ھبۃ، وفی الأصل جعلت ھذہ الدار لك فأقبضھا فھی ھبۃ؛ وفی الخانیۃ أو قال ھی لك تسکنھا فھی ھبۃ، الخ (کتاب الھبۃ، الفصل الاول الفاظ الھبۃ وما یقوم مقامھا، المرقم: 21540، ج 14، ص 414، ط: مکتبۃ رشیدیۃ)-
وفی الدر المختار: (وما حصله أحدهما فله وما حصلاه معا فلهما) نصفين إن لم يعلم ما لكل (وما حصله أحدهما بإعانة صاحبه فله ولصاحبه أجر مثله بالغا ما بلغ عند محمدؒ، وعند أبی يوسفؒ لا يجاوز به نصف ثمن ذلك) الخ
وفی الرد: تحت (قوله: وما حصله أحدهما) أی بدون عمل من الآخر، الخ (کتاب الشرکۃ، فصل فی الشركة الفاسدة، ج 4، ص 325، ط: ایچ ایم سعید)-