گناہ و ناجائز

واجب الاداء سودی رقم کی ادائیگی نہ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
80075
| تاریخ :
2024-12-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

واجب الاداء سودی رقم کی ادائیگی نہ کرنے کا حکم

میں نے ایک بینک سے(5) پانچ لاکھ روپے کا ذاتی قرض لیا، اور جب میں نے پے آرڈر لیا تو مجھے معلوم تھا کہ بینک کو تقریباً (10)دس لاکھ روپے واپس کرنے ہوں گے،میں نے تین سال تک قسطوں کی صورت میں بینک کو تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار روپے واپس کیے، لیکن مالی مسائل کی وجہ سے اس کے بعد مزید ادائیگی نہیں کر سکا،اب میرے ذمے تقریباً دو لاکھ پینسٹھ ہزار روپے واجب الادا ہیں ،
میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ میں اصل رقم سے زیادہ ادا کر چکا ہوں، اور باقی ماندہ رقم مکمل طور پر سود پر مشتمل ہے جو کہ اسلام میں حرام ہے، تو کیا مجھے یہ باقی رقم بھی ادا کرنی چاہیے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ سود پر قرض لینا خواہ کسی خاص شخص سے ہو یا بینک وغیرہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے،اور احادیث ِمبارکہ میں ایسے شخص کے بارے میں بڑی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا سائل کو چاہیئے کہ اپنے اس معاملہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کرکے باقی ماندہ سے جان چھڑانے کی پوری کوشش کرے، لیکن اگر کوشش میں کامیابی نہ ہو، تو مجبوراً دیے گئے سود پر امید ہے کہ آخرت میں مؤاخذہ نہ ہو گا، اس کا سارا گناہ سود لینے والے پر ہوگا، تاہم سائل پرلازم ہےکہ آئندہ سودی لین دین سے مکمل اجتناب کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالی: ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ (سورۃ البقرہ،الایۃ: 275)۔
وفی الصحیح للمسلم: عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‌آكِلَ ‌الرِّبَا ‌وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ (رقم الحدیث،1598، ج5، ص 50، ط: دار الطباعۃ)۔
وفی غمز عیون البصائر:تحتقوله: ‌يجوز ‌للمحتاج ‌الاستقراض ‌بالربح، وذلك نحو أن يقترض عشرة دنانير مثلا، ويجعل لربها شيئا معلوما في كل يوم ربحا الخ(الفن الاول،القاعدۃ السادسۃ: الحاجۃ تنزل منزلۃ الضرورۃ،ج1،ص294،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80075کی تصدیق کریں
0     439
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات